اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

عالمی بینک کی غربت سے متعلق نئی رپورٹ جاری، نظام کے برخلاف ساری ذمہ داری کووڈ19 اور ماحولیاتی مسائل پر دھڑ دی

عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے باعث عالمی معیشت کو ہونے والے نقصان کے باعث غربت گزشتہ 20 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ19 وباء کے باعث غریب افراد کی تعداد میں مزید 8 سے ساڑھے 11 کروڑ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ اضافہ 2021 میں 15 کروڑ تک پہنچ جائے گا۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کی غربت کی تعریف کے مطابق یومیہ 1 اعشاریہ 90 ڈالر یعنی 300 روپے سے کم پر گزارا کرنے والا غریب ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص یومیہ 301 روپے پر گزارا کر رہا ہے تو وہ غریب تصور نہیں ہوتا۔

عالمی ادارے کے مطابق 2017 میں غربت کی شرخ 9 اعشاریہ 2 تھی، جو اگر کووڈ19 نہ آتا تو 7 اعشاریہ 2 کی شرخ پر گرنے کی توقع تھی۔

وباء اور کساد بازاری نے دنیا کی 1 اعشاریہ 4 فیصد آبادی کو غربت میں دھکیل دیا ہے۔

بینک نے تجویز دی ہے کہ حالات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو خصوصی حکمت عملیاں اپنانا ہوں گی، چھوٹے اور پہلے سے موجود کاروباروں کے علاوہ نئے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کریں۔

بینک کے تخمینے کے مطابق 2030 تک غربت کی شرخ 7 فیصد تک جانے کی امید ہے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً فیصد آبادی خط غربت یعنی 1 اعشاریہ 90 ڈالر یومیہ پر گزارا کرتی ہے، 1/3 آبادی 3 اعشاریہ 20 ڈالر یومیہ پر، جبکہ 40 فیصد آبادی جو تقریباً 3 ارب 30 کروڑ کے قریب بنتی ہے کا یومیہ گزارا صرف 5 اعشاریہ 50 ڈالر میں ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کووڈ90 کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی مسائل کو بھی معاشی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی استعماری قوتوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارے نے امیروں کے امیر ترین بننے اور ظالمانہ معاشی نظام پر کوئی گفتگو نہیں کی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع تمام تر صورتحال کی بڑی وجہ مالی بدعنوانی، پیسے اور عالمی وسائل کے سکڑ کر چند افراد کے ہاتھوں میں چلے جانے کو قرار دیتے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us