اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

صدر کی تذلیل قابل قبول نہیں: فرانس نے صدر ایردوعان کے بیان پر سفارتی عملہ واپس بلا لیا

فرانس نے ترکی سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے۔ سفارتی عملہ واپس بلانے کی وجہ صدر رجب طیب ایردوعان کا وہ بیان بنا ہے جس میں انہوں نے فرانسیسی صدر کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویے پر کسی دماغی ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کا مشورہ دیا تھا۔

صدر میکرون کے دفتر نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ صدر کی تذلیل کرنا قابل قبول نہیں۔

اس سے قبل صدر ایردوعان نے حکمران عاق جماعت کے ایک اجلاس میں صدر میکرون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کے صدر میکرون کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ انہیں ضرور کسی نفسیاتی ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کروانا چاہیے، اس شخص کو عقیدے کی آزادی کی سمجھ ہی نہیں ہے۔

صدر ایردوعان کا بیان صدر میکرون کے ماضی قریب میں تواتر سے دیے ان بیانات کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اسلام کو نظریاتی طور پر مشکلات کا شکار ایک مذہب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اسلامی نظریات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کو جدیدیت سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ فرانس میں چارلی ہیبڈو نامی میگزین کی جانب سے حضرت محمدﷺ کی گستاخی میں دوبارہ خاکے چھاپنے کے بعد سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں ایک چیچن طالب علم کی جانب سے فرانسیسی استاد کے درس میں خاکوں کو آزادی اظہار کے طور پر دکھانے پر قتل کا واقع بھی شامل ہے، جبکہ میگزین پر حملے میں ملوث ایک پاکستانی بھی زیر حراست ہے۔

صدر میکرون نے میگزین کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے فرانسیسی اقدار قرار دیا تھا اور ردعمل میں حملہ آوروں کو فرانسیسی آزادیوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے واقعات کو اسلامی دہشتگردی قرار دیاتھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us