اتوار, جنوری 16 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی پر برطانوی پولیس اہلکار کا شہریوں کو ہمسائیوں کی شکایت کا مشورہ مہنگا پڑ گیا: شہریوں نے سماجی میڈیا پر درگت بنا ڈالی

برطانوی پولیس اہلکار اینڈی کوک کا کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر شہریوں کو ہمسائیوں کی شکایت کرنے کا مشورہ مہنگا پڑ گیا، شہریوں نے سماجی میڈیا پر پولیس اہلکار کی وہ درگت بنائی کہ کئی گھنٹوں تک مدعہ اہم موضوع بنا رہا۔

پولیس اہلکار نے میڈیا سے گفتگو میں شہریوں کو ابھارا تھا کہ اگر آپ اپنے ہمسائے کی کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی پر شکایت کرتے ہیں تو آپ نے شہری ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے قابل ستائش کام کیا ہے نہ کہ کوئی غلط کام۔ اگر لوگ قانون کی پاسداری کروانے کے لیے ہم سے رابطہ کرتے ہیں تو ایسا کرنا درست ہے، شہریوں کی بڑی تعداد موجودہ حالات سے پریشان ہیں اور زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے رویے کے خلاف بولنا چاہتے ہیں، انہیں ایسا کرتے ہوئے پولیس سے رابطے سے کترانا نہیں چاہیے۔

پولیس اہلکار کا بیان عوام میں جاتے ہیں اس پر ناراضگی کا اظار سامنے آیا اور شہریوں نے مشورے کو ہٹلر اور جارج اورویل کے بیانات سے جوڑ کر سماجی میڈیا پر خوب مذاق بنایا۔

ایک شہری نے کہا کہ ہٹلر اور نپولین بھی اپنے شہریوں سے جاسوسی ہی کرواتے تھے۔

ایک اور شہری نے کہا کہ اگر میں دو شہریوں کو گلے ملتے دیکھوں تو کیا پولیس کو بلا لوں کیونکہ پولیس کے پاس حقیقی جرائم کو روکنے کا وقت نہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us