پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

فرانسیسی صدر کی پیغمبرﷺ کے خاکوں پر اپنے بیان کی وضاحت: خاکوں کے حق میں نہیں، مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی سمجھتا ہوں، پر تشدد کو جواز نہیں دیا جا سکتا

فرانسیسی صدر ایمینیول میکرون نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکوں سے متعلق اپنے بیانات کی وضاحت کے لیے قطری میڈیا الجزیرہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ محمدؐ کے خاکوں کے حق میں نہیں ہیں انہوں نے صرف آزادی رائے کے حق کے تحفظ کے لیے بات کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان خاکوں پر ناراض ہوتے ہیں لیکن اسے تشدد کے لیے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ میں بطور صدر فرانسیسیوں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہوں۔

فرانسیسی صدر نے مسلمانوں کی دل آزاری پر اپنی وضاحت میں کہا کہ خاکوں سے متعلق ان کے بیان کو میڈیا نے غلط انداز میں پیش کیا، جس سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی دل آذاری ہوئی، ایسا کہنا کہ میں خود خاکوں کا حامی ہوں، غلط ہے۔

الجزیرہ سے گفتگو میں اپنی وضاحت میں صدر میکرون کا مزید کہنا تھا کہ خاکے فرانسیسی حکومت نے نہیں چھپوائے، اور نہ اسے چھاپنے والے ادارے کا حکومت کے ساتھ کوئی تعلق ہے، وہ ایک آزاد ادارہ ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر کے چارلی ہیبڈو نامی میگزین کے خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر شائع کرنے کے اعلان کے بعد سے مسلمان دنیا سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا، اور اس کے بعد تقریباً تمام ممالک نے فرانسیسی مصنوعات نہ خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ فرانس میں حملوں کے پیش نظر عوامی مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us