منگل, جون 15 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

روسی خبروں کو سنسر کرنے والی امریکی سماجی میڈیا کمپنیوں کو بڑے جرمانے کرنے چاہیے: روسی ٹیکنالوجی ماہرین کا وزارت اطلاعات کو کھلا خط

روسی ٹیکنالوجی ماہرین کے ایک گروہ نے وزارت اطلاعات سے استدعا کی ہے کہ ایسی غیر ملکی سماجی کمپنیوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں جو روسی ابلاغیات کو روکنے اور سنسر کرنے میں ملوث پائی گئی ہیں۔ گروہ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی سماجی میڈیا کمپنیوں نے 20 سے زائد روسی ابلاغی اداروں پر پابندی لگا رکھی ہے۔

ایک کھلے خط میں ماہرین نے ٹویٹر، فیس بک اور گوگل پر 10 لاکھ روسی روبل یعنی ایک لاکھ تیس ہزار امریکی ڈالر کے برابر جرمانے کی سفارش کی ہے۔

خط میں روسی وفاقی سنسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں نے آر آئی اے نوووستی، رشیا ٹوڈے، سپوتنک اور روسیا1 کے مواد کو سنسر کررکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی سنسر ادارہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جرمانہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لہٰذا ان کے مقامی معاونین سے یہ رقوم وصول کی جانی چاہیے۔ اس سال ٹویٹر کو مختلف قانونی خلاف ورزیوں پر 51 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ کیا گیا، لیکن کوئی وصولی نہ ہوئی، اس لیے ان کمنیوں کی مقامی معاونین اشتہاری کمپنیوں پر یہ جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اس سال ٹویٹر نے رشیا ٹوڈے پر ریاستی ترجمان ادارے کا خصوصی نوٹس لگایا جبکہ یہ نوٹس متعدد دیگر ممالک کے اداروں پر نہیں لگایا گیا، جن میں برطانوی بی بی سی اور امریکی آر ایف ای/آر ایل شامل ہیں۔ اور تو اور ویب سائٹ پر رشیا ٹوڈے کی شائع کردہ خبریں تلاش کرنے پر اس کے مواد کو دبائے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us