اتوار, April 10 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

شریعت، قومی قوانین سے بالاتر ہے: 57٪ فرانسیسی مسلم نوجوانوں کی رائے

فرانس میں کیے جانے والے ایک نئے عوامی سروے کے مطابق فرانسیسی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں اور دیگر فرانسیسی شہریوں میں فکری تفریق بڑھتی جا رہی ہے۔ سروے کے مطابق ملک کی 57 فیصد مسلم آبادی فرانسیسی قوانین کو شریعت سے کم تر سمجھتی ہے۔

آئی ایف او پی کی سروے رپورٹ کے مطابق 25 سال سے کم عمر 57 فیصد مسلمان نوجوان شریعت کو فرانسیسی قانون سے اہم اور بالاتر مانتے ہیں اور اس تناسب میں 2016 کی نسبت 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ عمر کی تفریق کے بغیر 38 فیصد مسلمان شریعت کے بارے میں نواجوانوں جیسی رائے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف کیتھولک عیسائیوں میں صرف 15 فیصد کے مطابق مذہبی قوانین ریاستی قوانین سے بالاتر ہیں۔

فرانسیسی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ سے عیاں ہوتا ہے کہ سروے کے متعدد سوالات فرانس میں سیموئل پیٹی نامی استاد کے سر قلم کرنے کے واقع سے متعلق تھے۔ جس میں استاد نے آزادی اظہار کا درس دیتے ہوئے طلباء کو پیغمبر اسلام کے خاکے دکھائے اورانکی ذہن سازی کی کوشش کی، جس پرچیچنیا کے ایک مسلمان طالب علم نے استاد کو قتل کر دیا۔

سروے میں 515 مسلمانوں سے سوالات کیے گئے، جن میں سے 66 فیصد نے استاد کے خاکے دکھانے کے عمل کو غلط قرار دیا جبکہ کیتھولک عیسائیوں اور دیگر غیر مسلم فرانسیسی شہریوں میں سے 80 فیصد نے کہا کہ استاد نےکوئی غلط کام نہیں کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ صدر میکرون کی جانب سے مسلم تنظیموں کے بند کرنے کی 34 فیصد مسلمانوں نے حمایت کی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سی سی آئی ایف کی بندش کی 65 فیصد اور برکۃ سٹی کی بندش کی 76 فیصد غیرمسلم آبادی نے حمایت کی ہے۔

سروے میں 81 فیصد مسلمانوں نے اسکولوں میں عربی سکھانے اور خواتین کے لیے تیراکی کی الگ سے مشقیں کروانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ غیرمسلم فرانسیسی آبادی نے سختی سے دونوں افکار کو مسترد کیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us