منگل, مئی 18 Live
Shadow
سرخیاں
فوج میں بڑھتے مارکسی نظریات پر تنقید: امریکی خلائی فوج کا کمانڈو برطرف، انتظامی کارروائی کا آغازمقبوضہ فلسطین: بے بس فلسطینیوں کی جانب سے قابض صیہونی افواج پر گاڑی چڑھا کر حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ، درجنوں قابض فوجی زخمی، 3 فلسطینی شہیدفرانس میں جرنیلوں کے بعد پولیس افسران کا خط بھی تشویش سے بھرا خط سامنے آگیا: ملک میں بڑھتی انتظامی ناکامی پر سیاسی حلقے پریشانچین سے معاشی میدان میں مقابلے میں ناکامی پر مغرب میں ایشیائی ملک کے خلاف پراپیگنڈا تیزغزہ میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے زیر استعمال عمارت پر بمباری: اے پی، الجزیرہ سمیت دنیا بھر سے مذمت، تحقیقات کا مطالبہامریکہ میں انوکھا عوامی سروے: کیا آپ شیر، ریچھ اور مگرمچھ سے مقابلے میں جیت سکتے ہیں؟ایران: سابق صدر احمدی نژاد نے بھی آئندہ صدارتی دوڑ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیےغلطیاں اور سبقمیرا کشمیر شبِ تاریک کے مشعل بردار سے محروم کر دیا گیاپاکستان سمیت دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے: یورپ میں صیہونی لابی کے زیر اثر گروہوں کے ساتھ جھڑپیں اور پولیس تشدد کے واقعات بھی درج – ویڈیو

بائیڈن دودھ کے دھلے نہیں، ان کی صورت میں جنگوں کی پیاسی ڈیموکریٹ جماعت دوبارہ اقتدار میں آگئی ہے: جرمنی کے سابق سیکرٹری دفاع

یورپی تعاون اور تحفظ کی تنظیم کے سابق نائب صدر ویلی ویمر نے تنبیہ کی ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جوبائیڈن کی صدارت میں امریکہ دوبارہ بیرونی جنگوں میں ملوث ہو جائے، اور اس کے باعث اسکا یورپ کے ساتھ دوبارہ اتحاد ممکن ہی نہ رہے۔ چار سال قبل امریکیوں نے ٹرمپ کو اس لیے چنا کیونکہ امریکی جنگوں سے تنگ آچکے تھے، جن کے باعث امریکی معیشت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بُری طرح متاثر تھے۔

صدر ٹرمپ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور کوئی نیا محاذ نہیں کھولا، لیکن سرائے ابیض میں ڈیموکریٹ کی واپسی سے اس پالیسی میں دوبارہ تبدیلی آسکتی ہے۔ جو بائیڈن اکیلے نہیں ہیں، وہ ڈیموکریٹ جماعت کے نمائندہ صدر ہیں، اسی جماعت نے 1990 میں اقوام متحدہ کے دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جنگوں کا آغاز کیا، جو تاحال جاری ہیں۔

جرمنی کے سابق فوجی افسر نے اپنے خطاب میں 1999 میں امریکی قیادت میں یوگوسلاویہ پر نیٹو کی بمباری کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس وقت بھی کلنٹن کی نمائندگی میں ڈیموکریٹ جماعت اقتدار میں تھی، اور 2016 سے پہلے جوبائیڈن خود بھی اوباما کے ساتھ نائب صدر رہ چکے ہیں، 2016 سے قبل ڈرون سے لے کر دیگر عالمی جنگوں میں اوباما کے ساتھ ساتھ بائیڈن کا بھی پورا ہاتھ تھا، بائیڈن کی صورت میں ڈیموکریٹ کی واپسی دراصل جنگوں کی واپسی ہے۔

واضع رہے کہ ویلی ویمر جرمنی کے سابق سیکرٹری دفاع بھی رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ٹرمپ کے دور میں یورپی اقوام پر نیٹو میں حصہ داری بڑھانے کا دباؤ رہا اور اس کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے ساتھ تعلقات پر بھی شدید مداخلت ہوتی رہی، اور اس چیز کی بھی امید ہے کہ اب اس صورتحال میں کمی آئے گی تاہم جب تک امریکہ اور نیٹو اقوام متحدہ کے دستور پر واپسی نہیں کرتے دنیا میں امن ممکن نہیں ہے۔

ڈیموکریٹ کی عالمی طاقت میں واپسی پر تمام خدشات کے ساتھ ساتھ 77 سالہ ویمر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی موجودہ معاشی صورتحال کے باعث یہ بھی ممکن ہے کہ نئی جنگیں شروع کرنا آسان نہ ہو، خصوصاً جبکہ کورونا کے باعث سارا سرکاری ڈھانچہ ناکامی کا شکارہے۔

امریکی انتخابات پر گفتگو میں ویلی ویمر کا کہنا تھا کہ یورپی اقوام کو جرمن چانسلر اینجیلا میرکل کی طرح بائیڈن کو مبارکباد کے پیغام میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، انتخابی نتائج کا اب تک باقائدہ اعلان نہیں کیا گیا، یہ صرف ذرائع ابلاغ کا مچایا شور ہے، اور امریکی انتخابی نظام میں کچھ بھی ممکن ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us