اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

محققین کا قلم نما آلے سے آسمانی بجلی کنٹرول کرنے کا کامیاب تجربہ

محققین کے ایک گروہ نے ایک نیا آلہ ایجاد کیا ہے جو زمین پر گڑتی آسمانی بجلی کو کمزور کرتے ہوئے اسے دیگر مقامات کی طرف دھکیل سکتا ہے اور ہمارے جنگلوں کو آگ کی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ آلے کو لیزر ٹریکٹربیم ٹیکنالوجی کا نام دیا گیا ہے۔

آلے میں نصب گریفین کے چھوٹے ذرات کو لیزر کی شعاع سے گرم کیا جاتا ہے، جس سے ایسی لہر پیدا ہوتی ہے جو بجلی کو جس طرف چاہے موڑ دے۔

محققین کے مطابق پیدا ہونے والی لہر کو دیکھا نہیں جا سکتا، یہ انسانی بال سے بھی دس گناء پتلی ہوتی ہے، اور صرف ایک قلم جتنے آلے سے پیدا کی جا سکتی ہے۔

محققین لیبارٹری میں لیزر اور مصنوعی آسمانی بجلی پر تجربے سے اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ جس پر ان کا کہنا ہے کہ اب انسان آسمانی بجلی کی تباہی سے بچنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انکا تیار کردہ آلہ زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے، اور اسے جلد بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکےگا۔ تاہم محققین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آسانی بجلی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کسی بھی ہاتھ میں جا سکتی ہے، جو خطرناک ہے۔

محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ آلہ مستقبل میں طب کے شعبے میں بغیر جلد کاٹے سرجری میں بھی استعمال ہو سکے گا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us