ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

برطانیہ: حکومت سماجی میڈیا پر کورونا ویکسین کے خلاف بحث روکنے میں ناکامی پر کمپنیوں کو جرمانے کرے، لیبر پارٹی

برطانیہ کی لیبرپارٹی نے کووڈ19 کی ویکسین کے خلاف آن لائن بحث کو روکنے کے لیے اسمبلی میں قانونی سازی کی سفارش کر دی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ سماجی میڈیا کی کمپنیاں غلط معلومات کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔

شیڈو وزیر جو سٹیون نے ٹویٹ میں کہا کہ حکومت کو ویکسین کے خلاف پراپیگندا روکنے کے لیے کمپنیوں کو پابند کرنا ہو گا۔

اس کے علاوہ جو سٹیون اور لیبر جماعت کے سیکرٹری برائے صحت جوناتھن ایشورتھ نے ایک مشترکہ خط میں استدعا کی ہے کہ حکومت ویکسین کے خلاف پراپیگنڈا کو روکنے میں ناکام سوشل میڈیا ویب سائٹوں کو جرمانے کرے اور انکے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کرے۔

لیبر نمائندگان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آن لائن دنیا میں ویکسین کے خلاف بے وقوفانہ بحث کو روکنے کے لیے متحرک ہونا ہو گا، حکومت عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرے اور منفی سوالوں کو دباتے ہوئےمثبت کو ابھارے۔

واضح رہے کہ فیس بک، ٹویٹر اور ٹویٹر نے گزشتہ ہفتے برطانوی حکومت کو ویکسین کے خلاف مہم میں مدد کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ کمپنیوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومتی پیغامات کو ابھاریں گی اور محکمہ صحت کی جانب سے کسی بھی پیغام کو جھوٹا قرار دینے پر اسے تنبیہی نشان کے ساتھ شائع کریںگے۔ اس کے علاوہ ویکسین کے خلاف مسلسل پیغام لگانے والے شہریوں کے کھاتے بند کرنے کے سخت اقدام کو بھی قبول کیا تھا، لیکن لیبر پارٹی کے محکمہ صحت کے نما ئندگان کا کہنا ہے کہ سماجی میڈیا ویب سائٹوں پر اب بھی سارا پراپیگنڈا ویسے ہی چل رہا ہے۔

یہاں یہ بھی ذہن نشین رہے کہ برطانیہ نے دوائیوں کی ایک بڑی کمپنی کو کووڈ19 کی ویکسین کے لیے 4 کروڑ ٹیکوں کی سفارش کر دی ہے، اور آئندہ ماہ اس کی ترسیل شروع کر دی جائے گی۔

شہریوں نے لیبر پارٹی کی جانب سے سماجی میڈیا پر ویکسین کے بارے میں بحث کو روکنے کی سفارش کو ناپسند کیا ہے ، انٹرنیٹ پر صارفین کا کہنا ہے کہ اس سے ویکسین کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی اثر کی خبروں کو روکنے میں مدد ملے گی، بحث کو روکنے کے بجائے اسے ہر جگہ کریں تاکہ لوگوں میں آگاہی بڑھے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us