منگل, جون 15 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

ڈالر کورونا ویکسین کے مالیاتی بوجھ اور نئی مانیٹری پالیسی کے نتیجے میں 20٪ تک قدر کھو دے گا: امریکی بینک کی تجزیاتی رپورٹ جاری

امریکہ کے ایک بڑے بینک نے پیشن گوئی کی ہے کہ کورونا ویکسین کی بڑے پیمانے پر تقسیم کے مالی بوجھ اور مانیٹری پالیسی کی گراوٹ سے آئندہ سال ڈالر کی قدر میں 20 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ بینک کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین کے مالیاتی بوجھ سے ڈالر کی گرتی قدر میں امید کے عین مطابق مزید اضافہ ہو گا، اور 2021 میں یہ 20٪ تک ہو سکتا ہے۔

بینک کی رپورٹ امریکی بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے میں کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی کمپنی نے 94 اعشاریہ 5 جبکہ دوسری نے 90 فیصد مؤثرہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی ویکسین کا تمام آزمائشوں کے بعد 92 فیصد مؤثر ہونے کا دعویٰ ہے۔

بینک رپورٹ میں گراوٹ کی دوسری وجہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے معیشت کو چلانے کی کوشش میں سود کم کرنے اور مارکیٹ میں پیسہ ڈالنے جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ وفاقی بینک نے بھی واضع اعان کر دیا ہے کہ چاہے افراط زر بڑھے وہ شرح سود کو کم رکھیں گے تاکہ پیسہ بینکوں میں پڑا رہنے کے بجائے سرمایہ کار اسے پیداوار میں استعمال کریں اور عام لوگ بھی آسانی سے ادھار لے سکیں۔

بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی سرمایہ کاروں کو اس کی ضرب اور تقسیم میں پھنسا دے گا، اور اس سے تنگ آکر وہ امریکہ کے بجائے باہر سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us