ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

ڈالر کورونا ویکسین کے مالیاتی بوجھ اور نئی مانیٹری پالیسی کے نتیجے میں 20٪ تک قدر کھو دے گا: امریکی بینک کی تجزیاتی رپورٹ جاری

امریکہ کے ایک بڑے بینک نے پیشن گوئی کی ہے کہ کورونا ویکسین کی بڑے پیمانے پر تقسیم کے مالی بوجھ اور مانیٹری پالیسی کی گراوٹ سے آئندہ سال ڈالر کی قدر میں 20 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ بینک کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین کے مالیاتی بوجھ سے ڈالر کی گرتی قدر میں امید کے عین مطابق مزید اضافہ ہو گا، اور 2021 میں یہ 20٪ تک ہو سکتا ہے۔

بینک کی رپورٹ امریکی بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے میں کامیابیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی کمپنی نے 94 اعشاریہ 5 جبکہ دوسری نے 90 فیصد مؤثرہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی ویکسین کا تمام آزمائشوں کے بعد 92 فیصد مؤثر ہونے کا دعویٰ ہے۔

بینک رپورٹ میں گراوٹ کی دوسری وجہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے معیشت کو چلانے کی کوشش میں سود کم کرنے اور مارکیٹ میں پیسہ ڈالنے جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ وفاقی بینک نے بھی واضع اعان کر دیا ہے کہ چاہے افراط زر بڑھے وہ شرح سود کو کم رکھیں گے تاکہ پیسہ بینکوں میں پڑا رہنے کے بجائے سرمایہ کار اسے پیداوار میں استعمال کریں اور عام لوگ بھی آسانی سے ادھار لے سکیں۔

بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی سرمایہ کاروں کو اس کی ضرب اور تقسیم میں پھنسا دے گا، اور اس سے تنگ آکر وہ امریکہ کے بجائے باہر سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us