Shadow
سرخیاں
پولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئےیورپی کمیشن صدر نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر جوہری حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیااگر خطے میں کوئی بھی ملک جوہری قوت بنتا ہے تو سعودیہ بھی مجبور ہو گا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرے: محمد بن سلمان

آئندہ ہفتے برج خلیفہ کے حجم کے برابر ایک شہاب ثاقب سمیت 5 شہاب ثاقب زمین کے قرین سے گزریں گے: ناسا

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں 5 شہاب ثاقب زمین کے انتہائی قریب سے گزریں گے۔ ان میں سے ایک شہاب ثاقب کا حجم دنیا کی سب سے بڑی عمارت برج خلیفہ کے برابر ہے، جو 29 نومبرکی دوپہر پاکستانی وقت کے مطابق 3:09 پر زمین کے قریب سے گزرے گا۔ حجم میں انتہائی بڑا ہونے کے باوجود شہاب ثاقب کی رفتار 26 کلومیٹر فی سیکنڈ بتائی جارہی، جس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمومی گولی کی رفتار4500 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

ناسا محققین کے مطابق شہاب ثاقب زمین سے 43 لاکھ 2 ہزار 434 کلومیٹر دور سے گزرے گا، اور اسے عمومی آنکھ سے دیکھا بھی نہیں جا سکے گا۔ لیکن کیونکہ ناسا کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کوئی شے اگر زمینی دائرے کے 75 لاکھ کلومیٹر کے اندر سے گزرے تو اس کا مطالعہ ضرور کیا جاتا ہے۔

پانچوں شہاب ثاقب آئندہ سوموار اور منگل کو زمین کے قریب سے گزریں گے، ان میں سے تین سوموار جبکہ دو بروز منگل زمین کے قریب سے گزریں گے۔

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ناسا اور دیگر عالمی خلائی ادارے ان شہاب ثاقب اور خلاء میں ہونے والی دیگر حرکتوں پر 24 گھنٹے نظر رکھتے ہیں، تاہم پھر بھی بہت سے محرکات ان کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں، اور ایسا ہی ایک محرک روان ماہ ہوا تھا، جس کا ادراک خلائی سائنسدانوں کو بعد میں ہوا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1 × 3 =

Contact Us