ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

ترک عدالت نے 2016 میں فوجی بغاوت کے جرم میں متعدد اعلیٰ افسران اور ہوابازوں سمیت 475 غداروں کو پھانسی/عمرقید کی سزا سنا دی

ترکی کی عدالت نے 15 جولائی 2016 کی بغاوت کے دوران پولیس اسٹیشنوں اور پارلیمنٹ پر بمباری کے جرم میں فوجی کمانڈروں اور ہوابازوں کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے 475 باغی فوجیوں میں سے 365 گرفتارشدہ کو سزا سنائی ہے۔ جن میں سے 79 کو پھانسی جبکہ دیگر کو جرم کے مطابق عمر قید یا دیگر سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ایک سابق بریگیڈیئر جنرل کو بمبار طیارے میں تیل فراہم کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ متعدد دیگر بریگیڈیئر جنرلوں کو ہوابازوں کو حساس مقامات کی تفصیلات بتانے اوربمباری کی ہدایات دینے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے ایف -16 کے متعدد ہوابازوں کو پولیس اسٹیشنوں، قومی اسمبلی اور ٹی وی چینل کی عمارت پر بمباری کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ جبکہ ایک ہواباز کو صدارتی محل کے قریب 15 شہریوں پر بمباری کے جرم میں 16 بار پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے ایک بریگیڈیئر جنرل کو بغاوت کے دوران مزاحمت پر پولیس کے سربراہ کو زدوکوب کرنے کے جرم میں بھی پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

اس سے قبل بھی ترک عدالت بغاوت میں معاونت پر 121 افراد کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے، جبکہ ایک اور فیصلے میں گزشتہ سال بھی 151 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک جتھے نے منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی، جسے عوامی مزاحمت کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ حکومت نے فتح اللہ گولین اور اسکی تنظیم کو بغاوت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان تھا۔ فتح اللہ گولین 1999 سے امریکہ میں خود ساختہ ملک بدرکی زندگی گزار رہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us