ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

امریکہ: 18 ریاستوں کی جوبائیڈن کی چار ریاستوں میں مشکوک فتح کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

متحدہ ہائے امریکہ کی اٹھارہ ریاستوں نے سپریم کورٹ میں صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ٹیکساس کی درخواست کی حمایت میں انفرادی درخواستیں دائر کر دی ہیں، درخواستوں میں انتخابات کے نتائج کا جوبائیڈن کے حق میں اعلان کرنے والی ریاستوں میں بدنظمی اور آئین کی خلاف ورزی کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

درخواست دائر کرنے والی ریاستوں میں میسوری، الباما، آرکنساس، انڈیانہ، کنساس، لوزیانہ، مسیسپی، مونٹانہ، نبراسکا، شمالی ڈکوٹہ، اوکلاہومہ، جنوبی کیرولینا، جنوبی ڈکوٹہ، ٹنسس، اوٹہ، ایریزونا اور مغربی ورجینیا شامل ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاستیں نہیں چاہتیں کہ انکے شہریوں کی رائے اور آئینی حق کو دوسری ریاستوں کی بدنظمی کے باعث نقصان پہنچے، 30 صفحاتی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انکے شہریوں کے ڈالے گئے آئینی ووٹ اور دیگر ریاستوں میں غیر مصدقہ ووٹوں کی وقعت برابر نہیں ہو سکتی، یہ انکی آزادی اور امریکی ریاست کے ساتھ شہریوں کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

درخواستیں جارجیا، مشی گن، پنسلوینیا، اور وسکونسن کے انتخابی عملے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

کچھ ریاستوں نے دھاندلی جبکہ کچھ نے بدنظمی، دوہرے قوانین، انتخابی قوانین میں انفرادی ترامیم اور ریپبلکن کے ووٹوں کو تکنیکی طور پر دبانے کی کوششوں کے خلاف درخواست دی ہے۔

ریاست ٹیکساس کی درخواست میں کہا گیا ہے بدنظمیاں قانونی طور پر منتخب صدر کے انتخاب میں رکاوٹ بنی ہیں۔ ٹیکساس کی درخواست میں دھاندلی کے مؤقف کے ساتھ شماریاتی تجزیے کی ایک سائنسی رپورٹ بھی شامل کی گئی ہے جس کے مطابق بائیڈن کو چاروں ریاستوں سے ملنے والے ووٹ تناسب میں ڈالے گئے ووٹوں سے کئی زیادہ ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کو ڈالے ووٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ انتخابات کی رات ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں کے شامل کیے جانے تک صدر ٹرمپ کو چاروں ریاستوں میں برتری حاصل تھی، جبکہ چار میں سے تین ریاستوں مشی گن، وسکونسن، پنسلوینیا میں ڈیموکریٹ گورنر ہے، جنہوں نے ممکنہ طور پر اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو بدلا۔ ریاست جارجیا میں اگرچہ ریپبلکن گورنر ہے تاہم رواں سال وہاں انفرادی طور پر ڈیموکریٹ اسمبلی کے دباؤ میں انتخابی قوانین میں ترمیم کی گئی، جس نے جوبائیڈن کو مدد فراہم کی ہے۔

سپریم کورٹ نے درخواستوں کو قبول تو کر لیا ہے لیکن تاحال سنوائی کی تاریخ نہیں دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تنازعات کے بڑھتے تناظر میں اندرونی سیاست میں بگڑتی صورتحال امریکی مفاد میں نہیں، اب صرف سپریم کورٹ ہی سے امید وابستہ ہے کہ وہ معاملے کو قابل قبول آئینی حل کی طرف لے جائے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us