ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

رشیا ٹوڈے وہ سوال بھی بے خوف اٹھاتا ہے جو دیگر عالمی نشریاتی ادارے پوچھنے سے ڈرتے ہیں: روسی نشریاتی ادارے کے 15 سال مکمل ہونے پر صدر پوتن کا ستائشی بیان

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے رشیا ٹوڈے کی نشریات کے 15 سال پورے ہونے پر ادارے کو مبارکباد دی ہے۔ اس موقع پر صدر پوتن کا کہنا تھا کہ آر ٹی نے عالمی منظر نامے میں پیشہ ورانہ صحافت کے نئے معیار مقرر کیے ہیں، 10 دسمبر 2005 کو اپنے پہلے پروگرام کے وقت ہم نے سوچا نہیں تھا کہ اتنے کم وقت میں رشیا ٹوڈے عالمی ایجنڈے کو نیا رخ دینے اور خبروں کی دنیا میں اتنی اہم جگہ حاصل کر لے گا۔

پندرہ سال کے مختصر دورانیے میں ایک چھوٹے سے چینل سے رشیا ٹوڈے آج کئی زبانوں کا ایک نیٹ ورک ہے، جس کا اپنا وقار اور اثرورسوخ ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد عالمی ایجنڈے کو سمجھنے کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔

صدر پوتن نے مزید کہا کہ رشیا ٹوڈے عالمی تناظر میں اسلیے بھی اہم ہے کہ یہ سچ بولتا ہے اور یہ ایسے سوالات اٹھانے کی ہمت بھی رکھتا ہے جنہیں اٹھانے سے دیگر عالمی نشریاتی ادارے ڈرتے ہیں۔

رشیا ٹوڈے کو صاف، معیاری اور آزاد صحافت کا معیار برقرار رکھنا چاہیے، اور دنیا میں کسی ایک ایجنڈے کا غلام بننے کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔

روسی صدر نے ادارے کی ترقی اور کامیابیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us