اتوار, نومبر 28 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

آئینی طور پر بدنظمی کی بنیاد پر انتخابی نتائج مسترد نہیں کر سکتے: امریکی سپریم کورٹ نے 18 ریاستوں کی درخواست مسترد کر دی

امریکی سپریم کورٹ نے ریاست ٹیکساس کی انتخابات میں بدنظمی کی بنیاد پر نتائج مسترد کرنے کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی ہے کہ اس کی آئین میں گنجائش نہیں ہے۔

جسٹس سیموئل الیتو اور کلیرینس تھامس نے کہا ہے کہ آئین کی شق نمبر 3 کے تحت درخواست کی بنیاد نہیں بنتی، درخواست میں ریاستی انتخابی قانونی معاملات میں عدالتی مداخلت کی کوئی مثال بھی نہیں دی گئی ہے کہ اس کی بنیاد پر مقدمے کو سنا جا سکے۔ عدالت نے اس کے علاوہ کسی معاملے پر گفتگو سے بھی اجتناب کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی دوسرے معاملے پر رائے دہی نہیں کریں گے۔ وہ درخواست پر پہلے بھی اعتراض لگا کر مسترد کر سکتے تھے لیکن وہ درخواست گزار کو درخواست کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھنا چاہتے تھے، تاہم درخواست کی کوئی آئینی بنیاد ضرور ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکی قانون کے مطابق ریاستوں کے آپسی مسائل کی صورت میں سپریم کورٹ ہی معاملات کے حل کا اختیاررکھتی ہے۔ ٹیکساس نے پنسلوینیا، جارجیا، مشی گن اور وسکونسن کے خلاف متناعہ انتخابی نتائج کے اعلان پر انہیں کالعدم قرار دینے کی درخواست دی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان ریاستوں میں بدانتظامی سے پورے ملک میں انتخابی نتائج متاثر ہوئے اور صدارتی انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ ٹیکساس کی حمایت میں مزید 18 ریاستوں نے بھی سپریم کورٹ میں انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست جمع کروا دی تھی اور اسکے جواب میں پنسلوینیا گروہ کی حمایت میں بھی 19 ڈیموکریٹ ریاستوں اور 2 جزیروں نے انکی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ نے بھی ٹیکساس اور 18 ریاستوں کے سپریم کورٹ سے رجوع کے بعد اعلیٰ عدالت جانے کے ارادے کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے پر اسے سراہا بھی تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us