منگل, جولائی 27 Live
Shadow
سرخیاں
لبنان میں سیاسی بحران و معاشی بدحالی: ارب پتی کاروباری شخصیت اور سابق وزیراعظم نجیب میقاطی حکومت بنانے میں کامیاب، فرانسیسی منصوبے کے تحت ملک کو معاشی بدحالی سے نکالنے کا اعلانجنگی جہازوں کی دنیا میں جمہوری انقلاب: روس نے من چاہی خوبیوں کے مطابق جدید ترین جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت کا اعلان کر دیا، چیک میٹ نامی جہاز ماکس-2021 نمائش میں پیشکیوبا میں کورونا اور تالہ بندی کے باعث معاشی حالات کشیدہ: روس کا خوراک، ماسک اور ادویات کا بڑا عطیہ، پریشان شہریوں کے انتظامیہ اور امریکی پابندیوں کے خلاف بڑے مظاہرےچینی معاملات میں بیرونی مداخلت ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی کی تناور درخت کو گرانے کی کوشش: چین نے سابق امریکی وزیر تجارت سمیت 6 افراد پر جوابی پابندیاں عائد کر دیںمغربی یورپ میں کورونا ویکسین کی لازمیت کے خلاف بڑے مظاہرے، پولیس کا تشدد، پیرس و لندن میدان جنگ بن گئے: مقررین نے ویکسین کو شیطانی ہتھیار قرار دے دیا – ویڈیوجرمنی: پولیس نے بچوں اور جانوروں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو آن لائن پھیلانے والے 1600 افراد کا جال پکڑ لیا، مجرمانہ مواد کی تشہیر کیلئے بچوں کے استعمال کا بھی انکشافگوشت کا تبادلہصدر بائیڈن افغانستان سے انخلا پر میڈیا کے کڑے سوالوں کا شکار: کہا، امارات اسلامیہ افغانستان ۱ طاقت ضرور ہے لیکن ۳ لاکھ غنی افواج کو حاصل مدد کے جواب میں طالبان کچھ نہیں، تعاون جاری رکھا جائے گاامریکہ، برطانیہ اور ترکی کا مختلف وجوہات کے بہانے کابل میں 1000 سے زائد فوجی تعینات رکھنے کا عندیا: امارات اسلامیہ افغانستان کی معاہدے کی خلاف ورزی پر نتائج کی دھمکیچینی خلا بازوں کی تیانگونگ خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی – ویڈیو

جوبائیڈن کے ساتھ نئے سرے سے جوہری معاہدے کی ضرورت نہیں: ایران نے عالمی جوہری ایجنسی کے سربراہ کی تجویز مسترد کر دی

ایران نے عالمی جوہری ایجنسی کے سربراہ کی جوبائیڈن کے حکومت میں آنے پر دوبارہ معاہدے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ویانا میں عالمی جوہری ایجنسی کے لیے ایرانی سفیر کاظم غریب آبادی نے ٹویٹر پر کہا کہ ایجنسی کے پاس ممالک کے سیاسی حالات کی وضاحت یا ان پر تبصرے کا اختیار نہیں ہے، اور اسے ایسا کرنے سے اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ کوئی بھی معاہدہ انتہائی احتیاط سے لکھا جاتا ہے اور دونوں فریقین کو علم ہوتا ہے کہ اسکا پاس کیسے کرنا ہے۔ اور اگر امریکہ دوبارہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں آنا چاہتا ہے تو ایسا نئی گفتگو کے ذریعے یا نئی شرائط پر نہیں ہو گا، نہ تو نئی معاہدے کو لکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی جوہری ایجنسی کے کردار پر نئی شرائط کو عائد کرنے کی، ایسا کرنا معاملے کو مزید پیچیدہ کر دے گا، جس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

دوسری طرف عالمی جوہری ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی جوہری محرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران نے امریکہ کے معاہدے سے نکل جانے کے بعد بہت سی حدود کو پھلانگا ہے۔ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران جوہری میدان میں بہت متحرک ہو گیا ہے، اس کے پاس اب پہلے سے زیادہ سینٹریفیوج ہیں اور انکا اعلان بھی کیا جا رہا ہے، ایسے میں پہلا معاہدہ کیا وقعت رکھتا ہے، اسے سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جوبائیڈن کے اقتدار میں آتے ہی ایران کے ساتھ کیے معاہدے کو بحال کیا جا سکتا ہے، جبکہ معاہدے کے یورپی فریق پہلے ہی اسے بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us