پیر, جنوری 18 Live
Shadow

روس جلد ہائیڈروجن ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کر رہا ہو گا: ماہرین

روس کے وسیع گیس کے ذخائر اور ملک میں موجود قابل تجدید توانائی کے وسائل اسے آئندہ دس برسوں میں دنیا کے بڑے ہائیڈروجن پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کر سکتے ہیں۔

روس میں دریافت ہونے والی معدنیات اور توانائی کے وسائل نے سابقہ عالمی قوت کو سرد جنگ کے بعد ایک بار پھر دنیا بھر میں اہم مقام دلا دیا ہے۔ تیل اور گیس کی برآمدات نے ملک کے لیے ضروری آمدنی کا سامان کر دیا ہے اور دنیا میں دوبارہ اثرورسوخ بڑھانے کا موقع دیا ہے۔ تاہم ماحول دوست توانائی کے مفروضے نے روس کے لیے بڑھتی امید کو خطرات لاحق کر دیے ہیں، ٓیہی وجہ ہے کہ روس نے بھی فوری خود کو حالات کے مطابق ڈھالتے ہوئے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔ روسی کمپنیاں جاپان اور جرمنی کے ساتھ مل کر ہائیڈروجن ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں اور تمام کمپنیاں ہائیڈروجن پیدا کرنے کے مختلف طریقوں پر تحقیق میں مصروف ہیں اور مستقبل میں ہائیڈروجن کی برآمد کی منصوبہ بندی کیے ہوئے ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک دنیا کی توانائی کی ضرورت کا 25 فیصد ہائیڈروجن سے حاصل ہو گا، تاہم تاحال اس کی پیداواری لاگت اور ترسیل ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ تاہم روس کو امید ہے کہ ہائیڈروجن کی صنعت کو قائم کرنے میں انکے گیس کے وسائل، جوہری علم وفہم اور توانائی کے وسائل پر تحقیق کے جدید ترین مراکز اسکے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھروں کا اثاثہ ہے جنہیں سرکاری ادارہ روس ایٹم چلاتا ہے۔جبکہ جوہری ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینے کے لیے ملک اور دنیا بھر میں اسکے کئی منصوبے چل رہے ہیں، روس ان بجلی گھروں کو ایک اثاثے کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں الیکٹرولائسس کے عمل کے ذریعے پیلی ہائیڈروجن پیدا کی جا سکے گی۔

روس اور جاپان میں ہائیڈروجن توانائی پر تعاون کے لیے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں، اور روس ایٹم جاپان کی کاواساکی کے ساتھ مل کر 2024 میں ہائیڈروجن کی برآمد شروع کر دیں گے۔

اس کے علاوہ روسی کمپنی نوواتیک بخارات کی صورت میں میتھین سے ہائیڈروجن بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس سے نیلی ہائیڈروجن بنانے کے لیے کاربن کے استعمال اور اسے محفوظ کرنے کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔

روسی کمپنی “گیس پروم” گیس اور ہائیڈروجن کی ترسیل کے لیے ایک الگ منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، یہ جنوب میں چین اور مغرب میں یورپ کو پائپ لائن کے ذریعے فی الحال گیس اور مستقل میں ہائیڈروجن مہیا کرے گی۔ کمپنی پائپ لائن کے انتہائی معیاری ہونے پر توجہ دیے ہوئے ہے تاکہ یہ کئی دہائیوں تک کام کر سکے۔

گیس پروم کی استعمال کردہ ٹیکنالوجی کا نام میتھین پائیرولسس ہے، اس ٹیکنالوجی کے تحت حرارت کے دباؤ پر میتھین ہائیڈروجن اور کاربن میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور اسکی حالت گیس سے ٹھوس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسے خصوصی طور پر صنعتوں میں استعمال کیا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں استعمال کے لیے روس نے تاحال بڑی سطح پر قابل تجدید وسائل پر انحصار شروع نہیں کیا ہے تاہم ہوا سے بجلی بنانے کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق ملک کا شمال مغربی علاقہ سبز ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے انتہائی سازگار ہے۔

واضح رہے کہ خلیجی ممالک کی طرح روس توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانے سے بڑے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، تاہم روس کو اس کا احساس ہے کہ آمدنی کا موجودہ نظام آئندہ دس سالوں میں کارآمد نہیں رہے گا، یہی وجہ ہے کہ روس نے توانائی کی صنعت کا رخ نئے وسائل کی طرف تیزی سے موڑ دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں