ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

پولینڈ میں مسجد پر حملہ اور عبادتگاہوں کو زہر آلود کرنے کی سازش گھڑنے والوں پر فرد جرم عائد: 10 سال سزا سنانے کا امکان

پولینڈ کی عدالت نے مسجد پر حملے کی سازش کرنے والے دو افراد پر سوا سال بعد فرد جرم عائد کر دی ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق منصوبہ سازوں نے بم دھماکے سے مسجد کو اڑانے کی مکمل سازش تیار کر رکھی تھی تاہم پولیس نے نومبر 2019 میں بروقت اطلاع ملنے پر انہیں گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے ملک میں موجود عبادتگاہوں کو زہر آلود کرنے کی سازش بھی تیار کر رکھی تھی۔

عبادتگاہوں پر حملے کی سازش کرنے والے دونوں افراد کو 2019 میں قوم پرست گروہوں کے ایک مظاہرے سے محض ایک روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزمان سے اسلحہ، منشیات، دھماکہ خیز مواد اور خطرناک کیمیکل برآمد کیا تھا۔

پولیس کو ملزمان کے پاس سے مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی ایک مکمل منشور بھی برآمد ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان 2012 میں ناروے پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے باعث پہلے سے ہی زیرتفتیش تھے۔

عدالت نے ملزمان پر دھماکہ خیز مواد بنانے، لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم عائد کیے ہیں۔ حکومتی وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ ملزمان کے پاس سے برآمد دستاویز سے ایک خاص مسلم چیز پر حملے کا اشارہ ملتا ہے، جو ممکنہ طور پر مسجد تھی۔ اس کے علاوہ وہ عبادتگاہوں کو زہرآلود کر کے ملک میں بڑھتے مذہبی رحجان کو بھی روکنا چاہتے تھے۔

عدالت میں خاص زہر کی تیاری میں مدد پر ایک اور شخص کو بھی پیش کیا گیا، جس پر ابھی مقدمہ چلایا جائے گا۔

حملے کی سازش گھڑنے والوں کو عدالت 10 سال کی سزا سنا سکتی ہے، جبکہ زہر تیار کرنے میں مدد کرنے والے کو دو سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پولینڈ میں آبادی کی اکثریت کیتھولک عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن عمومی رحجان قوم پرست ہے اور یہاں مسلمانوں کی آبادی صرف اعشاریہ 1 فیصد ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں ملک کے دارالحکومت میں موجود دو مساجد کو کئی بار حملے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

امریکہ تحقیقی ادارے پیو کی ایک تحقیق کے مطابق پولینڈ کی دو تہائی آبادی مسلمانوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جبکہ شامی مہاجرین کے مسئلے کے دوران پولینڈ ان ممالک میں شامل تھا جس نے مہاجرین کو لینے سے انکار کیا تاہم بعد میں دباؤ پر انتہائی کم کو قبول کیا اور انہیں بھی الگ سے بسایا۔ ملک کے وزیر داخلہ خود کا موازنہ 8ویں صدی کے چارلس ہیمر سے کرتے ہیں جسے یورپ میں مسلمانوں کے حملے روکنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us