ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

چین کی دفاعی پالیسی میں تبدیلی؟ صدر ژی کی افواج کو 2021 میں بھرپور جنگی مشقیں کرنے اور ہرلمحہ تیار رہنے کی ہدایت

چینی صدر ژی جن پنگ نے فوج کو 2021 میں جنگ کے لیے اچھی تیاری کرنے اور مشقوں میں جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی ایماء پر ہندوستان اور تائیوان نے چین کے ساتھ چھڑچھاڑ شروع کر رکھی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی صدر کا بیان اسی تناظر میں ہو سکتا ہے۔

ملک کے سربراہ ہونے کے ناطے چینی صدر فوج کی مرکزی قیات بھی سنبھالتے ہیں، ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کے دوران صدر ژی کا کہنا تھا کہ فوج کو کسی بھی لمحے حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے، پھر چاہے وہ کوئی اعلیٰ افسر ہو یا سپاہی، اسے ملک کی سلامتی کے لیے ہمیشہ ولولے سے بھرپور ہونا چاہیے، اور انہیں موت کا کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ فوجی اہلکار ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کی مشقیں کریں، اور ہر میدان میں اگلے قدموں پر رہیں۔ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے، اس سے کسی صورت میں سستی نہ بڑتیں۔

ساؤتھ چائینہ مارننگ پوسٹ کے مدیر نے چینی صدر کے بیان کو ملک کی عسکری پالیسی میں تبدیلی سے تشبیہ دی ہے، انکا کہنا ہے کہ اس سے پہلے صدر ژی مسائل کو حل کرنے اور جنگوں سے اجتناب کے بیانات جاری کرتے تھے، یہ پہلی بار ہے کہ صدر ژی نے فوجوں کو صف بندی کا کہا ہے۔ جس کی ممکنہ وجہ ہندوستان کی اشتعال انگیزیاں اور تائیوان کی امریکی مدد ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ہمالیہ کی سرحوں پر ہوئی جھڑپ میں ہندوستان کے 20 فوجی مارے گئے تھے، جبکہ چین نے اپنی طرف ہوئے نقصان کی معلومات جاری ہی نہیں کی تھیں۔ دونوں ممالک کے مابین صورتحال تب سے کشیدہ ہے، اگرچہ جنگ بندی کا اعلان دونوں جانب سے دوہرایا جا رہا ہے۔

ایسے ہی 2020 کے آخر میں تائیوان کے پانیوں میں امریکی بحری جہاز کے داخلے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے چین نے فوری ردعمل میں اپنا بحری بیڑہ اسے واپس دھکیلنے کے لیے بھیجا تھا، جبکہ تائیوان کو جدید اسلحے کی فراہمی نے بھی چین کی تشویش میں اضافہ کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ چین اور امریکہ ایک دوسرے پر بحیرہ جنوبی چین میں اشتعال انگیزی کا الزام بھی لگاتے رہتے ہیں، جبکہ تجارتی جنگ اور ہانگ کانگ کا مسئلہ بھی دن بدن بگڑتا جا رہا ہے اور اب دونوں ممالک میں لفاظی جنگ بھی اپنے عروج پر ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us