Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

چین کی دفاعی پالیسی میں تبدیلی؟ صدر ژی کی افواج کو 2021 میں بھرپور جنگی مشقیں کرنے اور ہرلمحہ تیار رہنے کی ہدایت

چینی صدر ژی جن پنگ نے فوج کو 2021 میں جنگ کے لیے اچھی تیاری کرنے اور مشقوں میں جدید ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کی ہدایات جاری کی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی ایماء پر ہندوستان اور تائیوان نے چین کے ساتھ چھڑچھاڑ شروع کر رکھی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی صدر کا بیان اسی تناظر میں ہو سکتا ہے۔

ملک کے سربراہ ہونے کے ناطے چینی صدر فوج کی مرکزی قیات بھی سنبھالتے ہیں، ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کے دوران صدر ژی کا کہنا تھا کہ فوج کو کسی بھی لمحے حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے، پھر چاہے وہ کوئی اعلیٰ افسر ہو یا سپاہی، اسے ملک کی سلامتی کے لیے ہمیشہ ولولے سے بھرپور ہونا چاہیے، اور انہیں موت کا کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ فوجی اہلکار ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کی مشقیں کریں، اور ہر میدان میں اگلے قدموں پر رہیں۔ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہے، اس سے کسی صورت میں سستی نہ بڑتیں۔

ساؤتھ چائینہ مارننگ پوسٹ کے مدیر نے چینی صدر کے بیان کو ملک کی عسکری پالیسی میں تبدیلی سے تشبیہ دی ہے، انکا کہنا ہے کہ اس سے پہلے صدر ژی مسائل کو حل کرنے اور جنگوں سے اجتناب کے بیانات جاری کرتے تھے، یہ پہلی بار ہے کہ صدر ژی نے فوجوں کو صف بندی کا کہا ہے۔ جس کی ممکنہ وجہ ہندوستان کی اشتعال انگیزیاں اور تائیوان کی امریکی مدد ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ہمالیہ کی سرحوں پر ہوئی جھڑپ میں ہندوستان کے 20 فوجی مارے گئے تھے، جبکہ چین نے اپنی طرف ہوئے نقصان کی معلومات جاری ہی نہیں کی تھیں۔ دونوں ممالک کے مابین صورتحال تب سے کشیدہ ہے، اگرچہ جنگ بندی کا اعلان دونوں جانب سے دوہرایا جا رہا ہے۔

ایسے ہی 2020 کے آخر میں تائیوان کے پانیوں میں امریکی بحری جہاز کے داخلے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے چین نے فوری ردعمل میں اپنا بحری بیڑہ اسے واپس دھکیلنے کے لیے بھیجا تھا، جبکہ تائیوان کو جدید اسلحے کی فراہمی نے بھی چین کی تشویش میں اضافہ کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ چین اور امریکہ ایک دوسرے پر بحیرہ جنوبی چین میں اشتعال انگیزی کا الزام بھی لگاتے رہتے ہیں، جبکہ تجارتی جنگ اور ہانگ کانگ کا مسئلہ بھی دن بدن بگڑتا جا رہا ہے اور اب دونوں ممالک میں لفاظی جنگ بھی اپنے عروج پر ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

10 + six =

Contact Us