Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

صدر ٹرمپ کی ایک اور عالمی سفارتی ثالثی کامیاب: قطر اور خلیجی ممالک میں 3 سال سے جاری کشیدگی ختم، تعلقات بحال

خلیج تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس میں قطر اور خلیجی ممالک کے مابین پچھلے تین سال سے جاری کشیدگی ختم ہو کر علاقائی ممالک میں سفارتی تعلقات پھر بحال ہو گئے ہیں۔ اگرچہ تعلقات میں بحالی بھی یوں اچانک ہوئی ہے جیسے کہ اس میں کشیدگی آئی تھی البتہ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ امریکہ میں سیاسی قیادت کی تبدیلی ہے۔

علاقائی تعاون تنظیم میں شرکت کے لیے امیر قطر تمیم بن حماد التھانی سعودی عرب پہنچے تو انکا استقبال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا اور قطر کے لیے زمینی، فضائی، بحری اور تجارتی تمام راستے کھولنے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ قطر پر دہشت گردوں کی مدد کے الزام کے ساتھ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 3 سال قبل سفارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جسے امریکی حمایت بھی حاصل تھی۔

تاہم اب خلیجی ممالک میں آپسی کشیدگی کو ختم کرنے میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کو دونوں اتحادیوں کی قیادت سے ملاقات کے لیے سعودی عرب اور قطر بھیجا تھا جس کے نتیجے میں بالآخر ایک معاہدہ طے پایا ہے جس پر الولا سمٹ میں دستخط ہوں گے۔

تعلقات کی بحالی پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ اس سے علاقائی اتحاد کو تقویت ملے گی اور علاقائی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ 2017 میں تعلقات ختم کرنے کی دھمکی کے ساتھ خلیجی ممالک نے قطر کے سامنے مختلف شرائط رکھی تھیں، جن میں الجزیرہ ٹی وی کے نیٹ ورک کو بند کرنا اور عسکری ضروریات کے لیے ترکی پر انحصار اور عسکری تعلقات کو محدود کرنا نمایاں تھیں۔ تاہم قطر نے شرائط کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شرائط قطر کو حکم دینے کے مترادف ہیں، اندرونی معاملات میں مداخلت قبول نہیں۔

تعلقات کی بحالی پر مطالبات میں سے کوئی مطالبہ پورا نہیں ہوا البتہ صدر ٹرمپ کے مطابق قطر خلیجی ممالک کے خلاف قطع تعلق سے ہونے والے نقصان پر دائر درخواست واپس لے لے گا۔

روایت پسند امریکی حلقوں میں خلیجی ممالک کے تعلقات کی بحالی کو صدر ٹرمپ کی آخری بڑی عالمی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر صدر جو بائیڈن کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر ضرور پڑے گا، اور صدر ٹرمپ نے خطے میں اپنے اتحادیوں کو ایک بار پھر اکٹھا کر دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

five × five =

Contact Us