منگل, مئی 18 Live
Shadow
سرخیاں
فوج میں بڑھتے مارکسی نظریات پر تنقید: امریکی خلائی فوج کا کمانڈو برطرف، انتظامی کارروائی کا آغازمقبوضہ فلسطین: بے بس فلسطینیوں کی جانب سے قابض صیہونی افواج پر گاڑی چڑھا کر حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ، درجنوں قابض فوجی زخمی، 3 فلسطینی شہیدفرانس میں جرنیلوں کے بعد پولیس افسران کا خط بھی تشویش سے بھرا خط سامنے آگیا: ملک میں بڑھتی انتظامی ناکامی پر سیاسی حلقے پریشانچین سے معاشی میدان میں مقابلے میں ناکامی پر مغرب میں ایشیائی ملک کے خلاف پراپیگنڈا تیزغزہ میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے زیر استعمال عمارت پر بمباری: اے پی، الجزیرہ سمیت دنیا بھر سے مذمت، تحقیقات کا مطالبہامریکہ میں انوکھا عوامی سروے: کیا آپ شیر، ریچھ اور مگرمچھ سے مقابلے میں جیت سکتے ہیں؟ایران: سابق صدر احمدی نژاد نے بھی آئندہ صدارتی دوڑ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیےغلطیاں اور سبقمیرا کشمیر شبِ تاریک کے مشعل بردار سے محروم کر دیا گیاپاکستان سمیت دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے: یورپ میں صیہونی لابی کے زیر اثر گروہوں کے ساتھ جھڑپیں اور پولیس تشدد کے واقعات بھی درج – ویڈیو

انٹرنیٹ اور صحافتی اخلاقیات

آج انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں ایک خاص طاقت کا مالک ہے۔ اس طاقت نے انسانوں کو جوڑا ضرور ہے لیکن اک نئی ایجاد کے ناطے اسکے استعمال کے لیے درکار تعلیم اور مصارف پر توجہ نہ دینے کے باعث دنیاانٹرنیٹ کو لے کر  بڑے سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ جن میں ایک بڑا مسئلہ انفرادی اور اجتماعی ابلاغیات میں بڑھتی  سماجی اخلاقی گراوٹ ہے۔

چند روز قبل مجھے پاکستان میں جامعہ سیالکوٹ کے طلباء سے آن لائن گفتگو کا موقع ملا، جن میں سے بیشتر طلباء شعبہ صحافت سے تعلق رکھتے تھے۔ میری مختصر گفتگو کے بعد سوال و جواب کی نشست میں ہمارا موضوع کب آن لائن دنیا میں صحافت اور اخلاقیات میں بدل گیا، ہمیں اسکا احساس ہی نہ ہوا۔ میں نے پایا کہ صحافتی اخلاقیات کو لاحق خطرات کا احساس صرف ترکی اور امریکہ میں نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان میں بھی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ طلباء جاننا چاہتے تھے کہ سماجی میڈیا کو کیسے مثبت استعمال میں لایا جائے، بلکہ مجھے پاکستانی نوجوان شعبہ صحافت کو لاحق خطرات کے حوالے سے امریکی طلباء کی نسبت زیادہ حساس نظر آئے۔

اگرچہ مجھے سیالکوٹ کا تعارف ایک چھوٹے شہر کے طور پر کروایا گیا، لیکن  اسکی 5 ہزار سالہ عظیم تاریخ کا حوالہ اور محمد اقبال سمیت درجنوں نمایاں افراد کی جائے پیدائش کا جان کر مجھے یہ سمجھنے میں بالکل دیر نہ لگی کہ یہاں کے طلباء کی دوراندیشی کا راز کیا ہے۔ ایک سوال کے دوران ایک طالب علم نے  کچھ صحافیوں کی جانب سے فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے معاشرے میں بےامنی اور تفریق پھیلانے کا ذکر کیا۔ اس کی بات سے  عیاں ہوتا تھا کہ وہ صحافت کے غیر سماجی ہونے سے کتنا ناخوش ہے، جبکہ طالب علم انٹرنیٹ سے کسی بھی بات کے جنگل میں آگ کی طرح پھیلنے کی طاقت اور خاموش اثر سے بھی بخوبی واقف نظر آیا۔ طلباء جاننا چاہتے تھے کہ ابلاغی اخلاقیات کے فقدان میں جامعات کے نصاب اور پیشہ ورانہ جدید تعلیم زیادہ ذمہ دار ہیں یا ملکی قوانین کی ناعملداری؟ جس پر میری توجہ کسی دوسری وجہ کی تلاش میں مشغول ہو گئی اور مجھے یہ کہنے میں بالکل دیر نہ لگی کہ جدید ابلاغی ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ کا موجودہ استعمال بالکل ویسے ہو رہا ہے جیسے اسے متعارف کروایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ موبائل اور انٹرنیٹ کے اشتہارات خود میں اچھل کود اور بے چینی کی ترویج  کرتے نظر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ترکی اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اکثر روایت پسند خاندانوں میں ٹیکنالوجی سے متعلق منفی رائے اور غلط معلومات کی ایک بڑی وجہ یہ اشتہارات اور سماجی میڈیا سے متعلق ٹی وی اخبارات کی خبریں ہیں۔

گفتگو میں ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر معروف شخصیات کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان یا انکی افکار پر سخت ردعمل نے بھی پاکستان میں سماجی میڈیا کو آلودہ کیا ہے، جس پر مجھے کہنا پڑا کہ ایسا پوری دنیا میں ہو رہا ہے، حکومتوں کو چاہیے کہ انٹرنیٹ کے لیے خصوصی قانون سازی کریں۔ دنیا بھر میں سیاسی قوتیں جن میں غیر سماجی عسکری عناصر بھی شامل ہیں، انٹرنیٹ پر دستیاب بغیر احتساب آزادی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ یہ موضوعات کو منظم کرتے ہیں، مخالفین کے خلاف بلاخوف جھوٹ پھیلاتے ہیں اور معاشرے میں نفرت پروان چڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

متذکرہ جامعہ میں موجود ترکی سے فارغ التحصیل ایک استاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلباء یا آزاد مقامی صحافیوں کو مقامی سطح پر سماجی اور ادارہ جاتی مدد کی نادستیابی بھی ایک مسئلہ ہے، ایسے فلاحی ادارے جہاں پر نوجوانوں کے کام کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہو بلکہ انہیں ضروری مالی معاونت بھی مل سکے، کیونکہ یہی تحفظ بالآخر معاشرے میں مثبت بیانیے کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جامعہ کے معلم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سماجی شعور اور ایسے اداروں کے ثمرات ترکی میں قیام کے دوران دیکھے، پاکستان میں اس کے لیے سماجی حلقوں کو  آگاہی پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے بیٹھکوں میں ہفتہ وار مختصر نشتسوں کا  قیام عمل میں لایا جائے، صنعتیں اور مالدار افراد فلاحی اداروں کے قیام، نوجوانوں کی تنظیم سازی اور افراد کی تربیت کے لیے وسائل مہیا کریں، جس سے درحقیقت انہیں بھی بلاواسطہ سیاسی و سماجی فائدہ حاصل ہو گا۔ اس موقع پر مجھے طلباء سے گفتگو کے دوران ایک بات حیران کن لگی، طلباء میں تنظیم سازی سے بیزاری کا عنصر نمایاں تھا، اور وہ اسکی اہمیت سے نہ صرف غیر واقف تھے بلکہ اسے منفی اور غیر سماجی بھی سمجھتے ہیں۔ جس کی وجوہات مقامی ماہرین زیادہ بہتربتا سکتے ہیں۔

ہم نے اپنی گفتگو کا اختتام اس اتفاق پر کیا کہ ہر کسی کو انفرادی سطح پر اپنے اردگرد ایسا ماحول یقینی بنانا ہو گا جس سے صحافت کی اچھی اخلاقیات پر عمل آسان ہو سکے۔ اس میں انفرادی یعنی روبرو گفتگو کے دوران اخلاقی قدروں کےپاس سے لے کر سماجی میڈیا پر شائع کرنے والی تصاویرکے مقاصد کو مدنظر رکھنا بھی  شامل ہے۔ میں نے طلباء سے کہا کہ دنیا کے بڑے نشریاتی ادارے جب انٹرنیٹ سے کوئی ویڈیو، تصویر یا تحریری معلومات استعمال میں لاتے ہیں تو اسکے لیے اس کے ماخذ یعنی شائع کرنے والے شخص کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے،اسکے شائع کردہ مواد میں سنجیدگی، تسلسل، رائے اور کردار میں سچ کے عنصر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ 2013 میں ترکی میں مظاہروں کے دوران پولیس کے تشدد سے متعلق جھوٹی تصاویر اور ویڈیوؤں کو دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر خوب نشر کیا گیا، یہ مواد اس قدر شائع ہوا کہ سچ کے گمان کے ساتھ کچھ ٹی وی چینلوں نے بھی انہیں خبروں میں شامل کیا۔ جعلی خبروں کے اس سلسلے کو بوسنیا سے تعلق رکھنے والے الجزیرہ کے صحافی حارث علیسیج نے کامیابی سے توڑا، حارث نے تحقیقاتی صحافت سے متعلق آن لائن موجود تکنیکوں کے استعمال سے جھوٹٰی خبروں کو عیاں کیا، جسے ترکی اور خطے میں بہت سراہا گیا۔ ایسے ہی امریکی خبری ویب سائٹ این پی آر کے معروف صحافی اینڈی کیون کا عرب بہار کے دوران ٹویٹر سے مقامی افراد سے خبر کے لیے معلومات اخذ کرنے کو بھی سچائی اور سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ صحافت اب صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک سماجی کام بن گیا ہے، جس میں نوجوانوں کا بڑ اہم کردار ہے، ہماری انفرادی اشاعت بھی کسی کی درست معلومات میں تذبذب کا باعث بن سکتی ہے اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیٹ نے انسانوں کو صرف مزید تیزی سے جڑنے کا موقع دیا ہے، اوربھرپور معلومات تک رسائی آسان کی ہے، تاہم اس سب کے ساتھ ساتھ صورتحال نے اخلاقی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا بھی دیا ہے۔ کسی عام شخص کا غلط معلومات کو بلا تحقیق وٹس ایپ، ٹویٹر یا فیس بک پر آگے چلانا بھی ایسے ہی غیر اخلاقی ہے جیسے کسی صحافی کا غلط معلومات سے معاشرے میں بےامنی پھیلانا۔ خصوصاً جبکہ انٹرنیٹ پر ایسا کرنا غیر ذمہ داری کے رحجان  کو پروان چڑھاتا ہے اور دنیا میں کہیں بھی اسکے احتساب کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کسی بھی شائع کردہ معلومات کو درست کرنے کا پہلے جیسا مکمل اور محفوظ موقع بھی دستیاب نہیں  ہوتا، کیونکہ ضروری نہیں کہ ایک غلط خبر کے بعد درست معلومات بھی ان تمام افراد تک پہنچے جنہیں پہلے غلط خبر پہنچی تھی۔ ایسے میں انٹرنیٹ کے مثبت اور انسان دوست استعمال کے لیے انسانی تہذیب کے اب تک تیار کردہ ابلاغی رہنما اصولوں پر مزید سختی سے عمل ناگزیر ہو گیا ہے، اور اس رائے سے دنیا کے معروف ابلاغی ماہرین بھی متفق ہیں۔

محقق کلفرڈ کرسچن کا صحافتی اخلاقیات پر کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی بنیادی صحافتی اصول مقامی  نہیں ہیں اور انہیں انسانی تہذیب نے عمومی انسانی رویے سے اجتماعی طور پر اخذ کیا ہے۔ کلفرڈ ایک ماہر عمرانیات کے حوالے سے مزید کہتا ہے کہ انسان زندگی کے تحفظ کی بنیادی خواہش پر کام کرتے ہیں، اور یوں زندگی کو حاصل ہونے والی مقدس اہمیت خودبخود انسانی وقار، امن اور سچائی کے تحفظ کا ضامن بن جاتی ہے، اور بالآخر یہی اصول صحافت جیسے بنیادی پیشے کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یا معاشرہ ان صولوں پر سمجھوتہ کرتا ہے تو سماجی امن اور بالآخر انسانی زندگی کو غیر محفوظ کرتا ہے۔

مزید ایک معلم کلاڈ کا کہنا ہے کہ شعبہ ابلاغیات کی اچھی اخلاقی اقدار دنیا بھر میں ایک جیسی ہیں، خصوصاً جہاں معاشرے مظبوط اور جمہوری ہیں۔ ان میں نفرت اور انتشار سے ناپسندیدگی قدرتی امر ہے، ایسے معاشروں میں نسلی یا کسی دوسری بنیاد پر تفریق بھی ناپسند کی جائے گی۔ شعبہ ابلاغیات کے رہنما اصولوں پر لکھی ایک کتاب میں مصنف لکھتا ہے کہ صحافت میں سچائی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، یہاں تک کہ خبر پہنچانے کی ذمہ داری بھی اس کے بعد آتی ہے۔ ایشیا، یورپ اور امریکہ میں صحافتی اخلاقیات پر کام کرنے والا محقق کائی حفیظ لکھتا  ہے کہ سچائی، معلومات کا درست بیان اور تعصب سے پاک خبر کا اصول، انکے زیر مطالعہ دنیا کے ہر خطے میں رائج ہے، اور یہ رہنما اصول تمام مقامی قوانین کا حصہ ہیں۔ حفیظ مزید  لکھتا ہے کہ مختلف تہذیبوں میں کچھ ذیلی قوائد مختلف ہو سکتے ہیں، مثلاً کچھ معاشرے شخصی آزادی کے قائل ہوں گے اور کچھ معاشرے تہذیبی قوانین کو زیادہ اہمیت دیتے ہوں، جیسا کہ مغربی تہذیب میں انفرادی رائے ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ مشرقی معاشروں خصوصاً اسلامی معاشرے میں تہذیبی قوانین کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم یہ ذیلی اصول قطعاً بنیادی اصول سے سمجھوتے کا باعث نہیں بنتے، اور  عالمی سطح پر یہ متفقہ رائے پائی جاتی ہے کہ صحافیوں کو مقامی روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہاں یہ بھی اہم ہے کہ  ذیلی اصول بسا اوقات حالات کی نوعیت کے ساتھ مختلف علاقوں میں بدلتے بھی رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا صحافی اسےمانا جاتا ہے جو ذیلی اصولوں میں ایک توازن کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور بنیادی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو پر صحافت کے دوران مدیر کے سر پر قانون  کی تلوار ہوتی ہے، تاہم سماجی میڈیا کے حوالے سے سے تاحال ایسی قانون سازی نہ ہونے کے باعث معاشرے مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے میں افراد کو خود اپنے حلقوں پر نظر رکھنا ہو گی اور عوامی احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا، سماجی تنظیمیں اس حوالے سے حکومتوں پر قانون سازی کے لیے دباؤ کے عمل کو بھی اپنا سکتی ہیں تاہم اس کے باوجود سماجی احتساب ضروری رہے گا۔ اس کے علاوہ مکتب کی سطح پر صحافت اور اسکے اصولوں سے متعلق باقائدہ مضمون کی سطح پر تعلیم وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

فہد بن عبدالخالق

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us