پیر, جنوری 18 Live
Shadow

کورونا ویکسین کے اثرات سے موت پر قانونی استثنیٰ مانگنے کی شرط: بیشتر جنوبی امریکی ممالک نے فائزر کمپنی سے ویکسین کا سودا روک دیا

جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کی حکومت اور فائزر کمپنی کے مابین کووڈ-19 ویکسین کو لے کر توقف آگیا ہے، معاہدے پر گفتگو بند گلی میں پہنچنے کی وجہ فائزر کی انتہائی غیر مناسب شرائط بنی ہیں۔

امریکی کمپنی کا مطالبہ ہے کہ شہریوں پر ویکسین کے مضر اثرات کی صورت میں کوئی بھی کمپنی کے خلاف مقدمہ نہیں کر سکے گا، جسے حکومت نے مسترد کرتے ہوئے شرط کو ملک کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔

پیرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ گرمیوں سے کمپنی کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم گزشتہ ماہ بات چیت کا سلسلہ تب رک گیا جب کمپنی نے مقدمات سے استثنیٰ کا مطالبہ پیش کیا، اس کے علاوہ کمپنی پیرو انتظامیہ سے ترسیل کے لیے الگ سے معاوضہ بھی طلب کر رہی ہے، جس پر بھی ابھی اتفاق ہونا باقی ہے۔

وزیر صحت پلر مازیتی کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ شہریوں کو ویکسین درکار ہے، لیکن اپنی خودمختاری پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا، اس شرط کو قبول کرنے سے آئندہ نسلوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا، ریاست ایسا نہیں کر سکتی۔ ہم نے فائزر کو پہلے ہی کچھ خاص گنجائشیں دی ہیں، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ویکسین میں تاخیر ہو، بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیں گے، اور انہیں امید ہے کہ موقف کی صورتحال سے نکلنے کے لیے کوئی راہ نکل آئے گی۔

واضح رہے کہ پیرو نے فائزر کو ایک کروڑ ویکسن کے لیے سفارش دے رکھی ہے۔ تاہم فائزر کا قانونی استثنیٰ کا مطالبہ بیشتر ممالک کے لیے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ گزشتہ ماہ برازیل کے صدر جائیر بولسونارو نے بھی فائزر کے مطالبے پر اظہار رائے میں کہا تھا کہ کمپنی چاہتی ہے کہ اسے بالکل کسی چیز کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے، چاہے انسان اسکی ویکسین لگنے سے مگرمچھ بن جائے۔ ارجنٹائن نے بھی فائزر کے اس مطالبے پر کمپنی کے ساتھ گفتگو روک دی ہے۔

دوسری طرف ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ وہ 100 سے زائد ممالک کو سود پر ویکسین کے لیے قرضے دینے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے لیے 160 ارب ڈالر مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ بینک کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ قانونی استثنیٰ کے معاملے میں بھی امیر ممالک کے ساتھ مل کر کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ناروے میں دو اور پرتگال میں ایک شخص کی فائزر ویکسین کا ٹیکہ لگتے ہی موت واقعہ ہو گئی تھی، کمپنی کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ ویکسین نہیں تھی، البتہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

پیرو نے متبادل کے طور پر چین کی سائنو فرم، برطانیہ کی استرازینیکا اور امریکی جانسن اینڈ جانسن ویکسین کے تجربے بھی شروع کر دیے ہیں، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ 20 مختلف لیبارٹریوں کے ساتھ ویکسین کی فراہمی کے لیے بات چیت بھی کر رہے ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں