پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے ایک شہری پر رکن اسمبلی الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹز کے قتل کی کوشش کا الزام بھی دھر دیا گیا

امریکی محکمہ انصاف نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے ایک شہری پر ایوان نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹز کے قتل کی کوشش کا الزام بھی لگایا ہے۔ ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے گیریٹ ملر پر اس کے علاوہ پانچ مزید الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جن میں اختیار کے بغیر ممنوعہ عمارت میں داخلے کا الزام بھی شامل ہے۔

رکن اسمبلی کے قتل کے الزام کی وجہ ملر کے سماجی میڈیا پر شائع کردہ کچھ پیغامات بنے ہیں۔ جن میں سے ایک میں ملر نے براہ راست “الیگزینڈریا کو مارو” کا پیغام لکھا تھا۔

اس کے علاوہ ملر نے اس پولیس آفیسر کو مارنے کی دھمکی بھی دی تھی جس نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر گولی چلائی اور نتیجے میں ایشلی ببت نامی خاتون ہلاک ہو گئی۔ ملر نے ساجی میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ببپ کو مارنے والے آفیسر کو مرنا ہو گا، اور وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکے گا، کیونکہ آج کل شکار کا موسم ہے۔

واضح رہے کہ ملر پر تشدد احتجاج میں اپنی شمولیت پر بالکل بھی شرمندہ نہیں تھا بلکہ اس نے سماجی میڈیا پر اپنی بہت سی تصاویر اور ویڈیو بھی شائع کیں۔ اس کے علاوہ ایک پیغام میں ملر نے لکھا کہ وہ مجرم بننا چاہتا ہے۔ جس کے جواب میں طنزیہ طور پر الیگزینڈریا نے لکھا کہ تم (مجرم) بن چکے ہو۔

ملر کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ انکے مؤکل کا رکن اسمبلی کو دھمکانا ایک غیر مناسب عمل تھا، لیکن اس نے ایسا ایک خاص ماحول میں کیا، وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا، وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔

معاملے پر رکن اسمبلی الیگزینڈریا نے لکھا ہے کہ وہ نہ صرف عام سفید فام شدت پسند مظاہرین سے بلکہ ارکان اسمبلی سے بھی خوفزدہ تھیں، انہیں ڈر تھا کہ نسلی تعصب میں انکے اپنے اسمبلی کے ساتھی انہیں مظاہرین کے حوالے کر دیں گے

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us