منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ازبکستان میں والد کے دن کی جگہ یوم دفاع کیوں منایا جاتا ہے؟

محمد عباس خان – تاشقند (خصوصی نمائندہ آج روس)

یوم دفاع ازبکستان کی انتیسویں سالگرہ رواں سال بھی جوش و خروش سے منائی گئی۔ اس موقع پر صدر شوکت میر ضیائیف کا کہنا تھا کہ تہوار ہماری قوم کی حب الوطنی، قربانی، جوانمردی اور خلوص جیسی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے ساری قوم خصوصاً افواج کو مبارکباد دیتا ہوں۔

واضح رہے کہ ازبکستان میں یوم دفاع ایک بڑے قومی تہوار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایسا تہوار کی جس کی تاریخ سوویت دور سے جا ملتی ہے۔ سوویت یونین میں 23 فروری کو افواج کی تشکیل کا دن منایا جاتا تھا۔جسے عام طور پر مردوں کا دن مانا جاتا تھا، سوویت یونین میں تمام بالغ اور صحتمند مردوں پر فوجی تربیت اور خدمات لازم تھیں، تمام مرد سوویت فوج کا حصہ ہوتے تھے۔

یوں اس تہوار کے دن خواتین مردوں کو مبارکباد دیتی تھیں۔ بیٹیاں، مائیں، بہنیں، بیویاں اپنے والد، بیٹوں، بھائیوں اور خاوندوں کو تحفے بھی دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ عام خواتین بھی اپنے دوست مردوں کو مبارکباد یا تحائف دیتی تھیں۔ یوں یہ رواج آہستہ آہستہ دفتروں میں بھی چل پڑا اور خواتین مشترکہ طور پر مردوں کے لیے تقریبات منعقد کرنے لگیں۔

لیکن جب سوویت یونین کا انتشار عمل میں آیا تو تمام مقبوضہ علاقے آزاد ریاستوں میں تبدیل ہو گئے۔ ہر آزاد ریاست نے اپنی اپنی فوج کی تشکیل نو کی او ازبکستان کی فوج کی تشکیل کا دن 14 جنوری 1992
کو قرار پایا۔ اس دن کو ازبکستان کا دفاع کرنے والوں کا دن یا دوسرے لفظوں میں یوم دفاع قرار دیا گیا۔ یوں سوویت دور میں مردوں کا دن یہاں بھی ایک تہوار دن گیا۔ اس دن کو مناتے ہوئے ازبک خواتین اپنے مردوں کو مبارکباد دیتی ہیں اور تحفے بھی بھیجتی ہیں۔ کام کی جگہوں، اسکولوں، دفتروں غرض ہر جگہ پر خواتین مرد ساتھیوں کو تحفے تحائف دے کر اور مختلف تقریبات منعقد کرکے خوشی محسوس کرتی ہیں۔

قارئین کے لیے شاید دلچسپی کا باعث ہو کہ ازبکستان میں “والد کا دن” نہیں منایا جاتا، بلکہ اس کی جگہ یوم دفاع کو ہی باپ کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ازبکستان میں والد کے درجے اور عزت کی پہچان کے طور پر بھی اس تہوار کو منایا جاتا ہے۔ وطن اور علاقے میں سکون، استحکام اور امن کی ضمانت کے طور پر بھی اس تہوار کو منایا جاتا ہے۔

رواں سال سرکاری تقریب سے خطاب میں صدر نے کہا کہ “ہماری افواج کی طاقت عوام اور افواج کے اتحاد میں ہے، ہماری باہمی تقریبات ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت ہیں۔ آج ہم اس حقیقت کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھتے ہیں کہ فوج کسی قوم کے لیے کتنی اہم ہے۔ صدر نے کہا کہ فوج کی خوشحالی کے لیے ریٹائر ہونے والے افرا کےلیے روزگار کی نئی اسکیمیں متعارف کی جا رہی ہیں۔ افوج کے اسٹرکچر اور مقاصد کو نئے تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جا رہا ہے اور افواج کو جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس بھی کیا جا رہا ہے۔ ہم حکومت کی عملداری کو بڑھا کر ملک کے دفاع کو مزید طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔ فوجیوں کے بچوں کو ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر نے کے لیے وظائف دیے جا رہے ہیں اور اس سال کو نوجوانوں اور عوام کی بہتری کا سال قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے ازبکستان کو جدید اسلحہ خریدنے کے لیے 4 کروڑ ڈالر قرضہ دینے کی پیشکش کی ہے، جسے ممکنہ طور پر قبول کر لیا گیا تھا۔

سن 2019 میں ہندوستان کے وزیر دفاع نے ازبکستان کا دورہ کیا تھا اور اور اس کے بعد دونوں ممالک کی افواج نے مشترکہ طور پر فوجی مشقیں بھی کی تھیں۔ 2019 میں ہی ازبکستان اور ہندوستان کے مابین مشترکہ دفاع کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، اور دونوں ممالک نے مشترکہ سکیورٹی کونسل بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی افواج کئی مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہیں۔

ازبکستان کے قومی دن کے موقع پر پاکستانی سفارت خانے نے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مبارکباد دی، پاکستانی سفیر نے ازبک افواج کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us