ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

عالمی عدالت نے امریکی پابندیوں کے خلاف ایرانی مقدمہ سننے کی درخواست منظور کر لی

عالمی عدالت انصاف نے ایران کی جانب سے امریکی معاشی پابندیوں کے خلاف سنوائی کے اختیار کا فیصلہ سنایا ہے۔ بروز بدھ 16 رکنی ججوں نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت مقدمے کو سننے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔

ایران نے عالمی عدالت سے 2018 میں رجوع کیا تھا جس میں امریکی صدر کے دوستانہ معاہدے کو توڑنے کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی اور مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکہ نے یک طرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدے کو توڑا اور ایران پر معاشی پابندیاں بھی لگائیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے افسران نے ایران کے معاہدے کے پابند ہونے کی تصدیق کی تھی۔

ایرانی درخواست کے جواب میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ ایرانی مؤقف بے بنیاد ہے، اور امریکہ اس کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔ امریکہ نے عالمی عدالت کے اختیار کو بھی زیر بحث لایا تھا اور کہا تھا کہ عدالت اسے سننے کا اختیار ہی نہیں رکھتی۔

اب عدالت کے فیصلے پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران کی قانونی جیت ہے۔ ایران ہمیشہ ہی عالمی قوانین کا پاسدار رہا ہے، اب امریکہ کو بھی چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ امریکی پابندیوں سے ایرانی مسائل میں اضافہ ہوا، اور اس سے کروڑوں لوگوں کے رہن سہن پرانتہائی منفی اثر پڑا ہے۔ کووڈ-19 وباء کے دوران ایرانی حکومت کی کارکردگی ناقص رہی کیونکہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران وسائل کی کمی کا شکار رہا۔

عالمی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے اختیار کا فیصلہ تو دے دیا تاہم مقدمے کا فیصلہ ہوتے کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اور اس کے بعد بھی عدالت کے پاس عملداری کی طاقت نہ ہونے کے باعث ایران کو کوئی خاص فائدہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ ایران سمیت بیشتر ممالک ماضی میں عالمی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی روایت رکھتے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us