ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

وباء کے دوران صنعتی آلودگی میں کمی کے باوجود زمینی درجہ حرارت میں اضافہ، محققین کا ماننا ہے کہ ایسا جزوی ہے، مستقبل میں آلودگی میں کمی کے ماحول دوست نتائج نکلیں گے

ایک تازہ تحقیق میں کووڈ-19 وباء کے دوران قدرتی ماحول میں بہتری کی تمام خبریں وقتی طور پر مسترد ہوتی نظر آرہی ہیں۔ ایک نئی ماحولیاتی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ درحقیقت وباء کے دوران صنعتی ممالک کے درجہ حرات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی قومی ادارہ برائے فضائی تحقیق کے نئے مطالعہ میں سامنے آیا ہے کہ سورج کی خطرناک شعاعوں کو روکنے والے ذرات اور بخارات میں وباء کے دوران کمی دیکھنے میں آئی ہے، خصوصی طور پر صنعتی ممالک میں فضائی غلاف میں کمی واقع ہوئی جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ وباء کے دوران 2020 میں فضائی بخارات میں نمایاں کمی ہوئی، جو اس سے قبل صنعتی عمل/ آلودگی کے باعث بھی پیدا ہوتے تھے، اور سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روکنے کا باعث بنتے تھے۔ لیکن اب صںعتی سرگرمیاں رکنے سے صنعتی ممالک مثلاً امریکہ اور روس میں متعدد مقامات پر درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کی بندش سے فضائی آلودگی میں کمی ہوئی لیکن اس سے زمینی درجہ حرارت پر بھی فوری اثر دیکھنے کو ملا ہے، یعنی بظاہر آلودگی زمینی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روک رہی تھی لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ آلودگی میں کمی زمینی درجہ حرارت کو بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔

محققین نے پایا ہے کہ زمین پر کچھ مقامات پر درجہ حرارت اعشاریہ 1 سے 3 ڈگری سیلسیئس رہا، جو کہ سال کے اس حصے میں موجود عوامل کے ساتھ ممکنہ درجہ حرارت سے زیادہ تھا۔ امریکہ اور روس کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت میں اعشاریہ 37 تک کا اضافہ بھی ہوا۔ محققین کا کہنا ہے کہ اسکی وجہ فضائی آلودگی کی وہ تہہ تھی جو سورج کی روشنی کو آنے سے روکتی تھی، اور اب مطلع صاف ہونے کے باعث سورج کی روشنی بلا تعطل زمین تک پہنچ رہی ہے۔ جبکہ گرین گیسوں کی تہہ سورج کی شعاعوں کو زمینی سطح کے قریب رکھ رہی ہے، جس سے دوہرے پیمانے پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے نتائج میں محققین نے واضح کیا ہے کہ درجہ حرارت میں حالیہ معمولی اضافے کے علاوہ موجودہ ماحول مستقبل میں ماحولیاتی مسائل کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ تالہ بندی نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو وقتی طور پر روک دیا ہے، خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج انتہائی ماحول دوست ہے جس کے مستقبل میں اچھے نتائج نکلیں گے۔

تحقیق کی تفصیل میں سامنے آیا ہے کہ درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ شمالی قطب میں پایا گیا، خط استوا پر درمیانہ جبکہ جنوبی خطے میں انتہائی کم اضافہ ہوا۔ غور کیا جائے تو دنیا میں صنعتوں کی تقسیم بھی ایسی ہی ہے، شمال میں صنعتوں کا جال وسیع ہے، جبکہ جنوب میں انتہائی کم ہے۔

تحقیق سامنے آنے پر اٹھنے والے سوالات میں مصنوعی طور پر فضائی تہہ میں اضافے کی تجویز پر محققین کا کہنا ہے کہ یہ عمل انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ان ذرات سے انسانی صحت پر براہ راست منفی اثرات پڑتے ہیں اور ماحول کو آلودہ کرنا کسی صورت انسانیت کے لیے موزوں نہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us