ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

آزربائیجان اور آرمینیا میں امن معاہدہ خطرے میں: آزربائیجان کا کاراباخ میں آرمینیائی فوجیوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

کاراباخ میں امن معاہدہ خطرے میں پڑ گیا۔ آرمینیائی افواج نے کئی ماہ بعد ایک بار پھر جنگ بند کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔ آزربائیجان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امن معاہدے کے ثالثوں سے مداخلت کا کہا ہے۔

آزربائیجان کی سرحدی فوج نے خصوصی اعلامیے میں کہا ہے کہ آرمینیا کے ساتھ سرحد پر جھڑپیں بڑھ رہی ہیں۔ بروز منگل آرمینیا کی فوج نے سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 20 مشین گنوں سے کاراباخ کی حفاظتی چوکی پر گولیاں برسائیں۔

تاہم آرمینیا کے وزیر دفاع نے الزامات کی تردید کی ہے، اور اپنے یورپی اتحادیوں پر آزربائیجان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یورپی کمیشن جنگی قیدیوں، شہریوں اور علاقہ خالی کرنے والے متاثرہ آرمینیائی افراد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ نومبر میں دونوں فریقین نے روس کی ثالثی میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور کاراباخ میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ آزربائیجان نے ترکی کو بھی ثالث مقرر کرنے پر زور دیا تھا جس پر ترک فوجی بھی امن معاہدے کی پاسداری کے لیے روسی امن افواج کے ساتھ علاقے میں تعینات کی گئی تھیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us