امریکی فضائیہ کی جانب سے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ناکام ہونے کے اعتراف نے شہریوں میں غم و غصے کی نئی لہر کو پیدا کیا ہے۔ معروف امریکی جریدے فوربز نے بروز جمعرات ایک تحریرمیں دعویٰ کیا ہے کہ ایف-35 لڑاکا طیارے تکنیکی طور پر ایک ناکام منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پانچویں درجے کے جدید ترین سٹیلتھ لڑاکا طیارے کے منصوبے پر ناکامی پر شہریوں نے سماجی میڈیا پر تنقید میں کہا ہے کہ اس پر خرچ ہونے والے کھربوں ڈالر شہریوں کی زندگی بہتر کرنے پر لگ سکتے تھے لیکن عسکری اسٹیبلشمنٹ نے ایسا نہ ہونے دیا۔
شہریوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناکام عسکری منصوبے کے بجائے ملکی وسائل کو شہریوں کے قرض اتارنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔ یاد رہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق منصوبے پر پونے دو کھرب ڈالر اخراجات آئے ہیں، اور اب اسے مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام تسلیم کر لیا گیا ہے، جس کی تحقیقات کے لیے فضائیہ نے ایک کمیشن بھی مقرر کر دیا ہے۔
ماحولیاتی مسائل کی معروف وکیل ایرن بوروکووچ نے ٹویٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ اس رقم سے ہم پورے امریکہ کو صاف پانی فراہم کرنے کا نیا نظام تعمیر کر سکتے تھے۔
ایک صارف نے لکھا کہ اس رقم سے پورے ملک میں بے گھر افراد کے لیے فی کس 28 مکانات بن سکتے تھے۔ جبکہ کچھ نے کورونا وباء سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا رونا رویا۔
ایک صحافی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ منصوبہ قطعاً ناکام نہیں ہوا بلکہ اس نے بڑی کامیابی سے ٹیکس کا پیسہ حکومتی خزانے سے دفاعی پیداوار کی صنعت کے ٹھکیداروں کی جیب میں پہنچایا۔
واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے رواں سال ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے پینٹاگون کو 10 کروڑ ڈالر بھی مہا کر دیے ہیں، جن سے 93 ایف-35 طیارے خریدے جا سکیں گے۔
یاد رہے کہ فوربز کی تحریر میں ایف-35 طیاروں کو اعلیٰ سپورٹس کار قرار دیا گیا ہے، جسے شوقین حضرات صرف ہفتہ اتوار چلاتے ہیں، یہ رفتار میں اچھی ہوتی ہے لیکن اسکا زیادہ استعمال اسکی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہے۔
تحریرمیں امریکی فضائیہ کی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے اور وقت کو انتہائی موضوع قرار دیا گیا ہے۔ فوربز تحریر میں لکھاری نے مزید لکھا ہے کہ انکے طیارے پر سوالات پر جذباتی قصیدے سنائے جا رہے ہیں، انہیں اعدادوشمار چاہیے، جذبات نہیں۔ لکھاری براؤن نے لکھا ہے کہ ایف-16 طیارے کے پرانے ماڈل کو فوری متبادل کی ضرورت تھی، اور امریکی ایف-35 کو اس کا متبادل مان رہے تھے، لیکن پینٹاگون نے 20 سال کام کرنے کے بعد نہ صرف ایک ناکام منصوبہ دیا ہے بلکہ اس پر خرچ ہونے والی خطیر رقم کے سوال پر جرنیلوں کے رخسار شرمندگی سے سرخ ہو جاتے ہیں۔