ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

فرانس کے کیتھولک اداروں میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر قائم کمیشن کی رپورٹ: 70 سالوں میں 10 ہزار بچے زیادتی کا نشانہ بنے

فرانس میں عیسائی اداروں میں گزشتہ 70 سالوں میں کم از کم 10 ہزار بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ہیں۔ سیکولر ملک کی حکومت کے قائم کردہ کمیشن کا مقصد کیتھولک اداروں میں بچوں سے ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات ریکارڈ کرنا ہے۔ جس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 1950 سے 2020 تک فرانس میں کیتھولک اداروں میں کم ازکم 10 ہزار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔

حکومت نے کمیشن میں ڈاکٹروں، تاریخ دانوں، ،قانون دانوں، سماجی ماہرین اور شعبہ دینیات کے ماہرین کو شامل کیا ہے، یاد رہے کہ کمیشن کی درخواست فرانسیسی کیتھولک کلیسا نے دی تھی، جس کی فوری وجہ عیسائی اداروں میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات میں اضافہ، خصوصاً پادریوں پر اس میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

یاد رہے کہ فرانس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں گزشتہ کچھ سالوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، اعدادوشمار کے مطابق 2020 میں کلیسے کے ملازمین کے ہاتھوں 3000 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، جن میں سے 1500 کیتھولک پادریوں کا نشانہ بنے۔ باقی 7000 بچے اس سے قبل 69 سالوں میں سیکولر ملک کے مذہبی اداروں میں زیر ملازمت اہلکاروں کا نشانہ بنے۔

واضح رہے کہ اعدادوشمار رضاکارانہ طور پر تعاون کرنے والے افراد کی دی گئی معلومات پر مبنی ہیں، جس کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا، یعنی معلومات انتہائی محدود، سائنسی لحاظ سے غیرمصدقہ اور صرف الزام پر مبنی ہیں۔ تاہم کمیشن کا دعویٰ ہے کہ انہیں مجموعی طور پر درج ہوئے 10 ہزار میں سے 6500 واقعات کی شہادت مل گئی ہے، جن میں سے کچھ کلیسا کے اپنے دفتری اندراج سے حاصل ہوئی ہیں۔

کمیشن نے بچوں سے زیادتی کو کیتھولک اداروں کی ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بھی قرار دیا ہے، کمیشن سربراہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ محدود تھا تاہم ایسا ہوا ہے۔

کمیشن کو ستمبر 2021 تک مکمل رپورٹ جمع کروانے کا وقت دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سن 2018 میں کیتھولک کلیسے نے خود حکومت سے درخواست کی تھی کہ میڈیا میں کلیسے کو بدنام کرنے کو لے کر جاری مہم کی تحقیقات کی جائیں اور اس کے لیے تحقیق کی جائے کہ مذہبی اداروں میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی حقیقت اور حقیقی اعدادوشمار کیا ہیں؟ یاد رہے کہ ایسے کمیشن آسٹریلیا، آئرلینڈ، امریکی ریاست پنسلوینیا میں بھی قائم ہیں۔

فرانسیسی کیتھولک کلیسے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر متاثرہ افراد کو مالی معاوضہ دیں گے، جبکہ کمیشن اپنی تجاویز میں بھی مالی و دیگر معاونت دینے کا پابند ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us