ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

جرمنی: اسلامی تنظیموں پر کورونا وباء کے دوران اکٹھا ہونے والے چندے کو دہشتگردی میں استعمال کرنے کا الزام، مسلمانوں کی جانب سے میڈیا مہم کی مذمت

جرمنی کے ذرائع ابلاغ نے ملک میں اسلامی تنظیموں پر کووڈ-19 کے دوران لاکھوں یورو چندہ اکٹھا کرنے اور اسے مبینہ طور رپر دہشتگردی میں استعمال کرنے کے شبہے کا اظہار/الزام لگایا ہے۔ صحافتی اداروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے 100 سے زائد معاملات میں ہیراپھیری/دھوکہ دہی کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

اسلاموفوبیا پر مبنی خبری مہم کا آغاز ویلٹ ایم سونٹاگ نامی اخبار نے شروع کیا، جس نے دہشتگردوں کو مالی معاونت میں چندے کی رقم کے استعمال کا امکان ظاہر کیا، اور کہا کہ انفرادی امداد کے ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں، اخبار نے اس حوالے سے سکیورٹی اداروں کے تحفظات کا حوالہ بھی شامل کیا۔

ایک رپورٹ میں سکیورٹی اداروں میں پہلے سے جاری انفرادی 100 سے زائد دھوکہ دہی کے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ کو وباء کے چندے سے جوڑ کر پیش کیا گیا اور عوام میں خوف و نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں 60 سے زائد مساجد، اداروں اور افراد سے تفتیش کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

جرمنی کے ابلاغی ادارے معاملے کو خاص ایجنڈے کے تحت نمایاں رکھنے کے لیے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف ممکنہ عدالتی کارروائی، سزا اور دیگر اثرات کی تفصیل کو بھی خبروں میں شامل کر رہے ہیں۔

ایک رپورٹ میں اب تک 10 لاکھ یورو کے دہشت گردوں کے ہاتھوں لگ جانے اور ڈھائی لاکھ یورو پولیس کے واگزار کروانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے

اسلامی تنظیموں نے نشریاتی اداروں کی مہم کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ چندے سے صرف ان افراد کی مدد کی جا رہی ہے جو وباء کے باعث شدید متاثر ہوئے یا جن کے کاروبار مکمل بند ہو گئے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us