ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

برما میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری: مغربی میڈیا کے پراپیگنڈے کے زیراثر مظاہرین چینی فیکٹریاں جلانے لگے، صنعتی شہر میں ہنگامی حالات نافذ

گزشتہ اتوار برما میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرتے مظاہرین پر پولیس نے دھاوا بول دیا، اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں مختلف مقامات پر 38 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ملک کے دارالحکومت رنگون میں درج ہوئیں، جہاں کچھ شرپسند عناصر نے ایک چینی فیکٹری میں زبردستی گھسنے اور لوٹ مار کرنے کی کوشش کی، جہاں حالات کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو فائر کھولنا پڑا۔ فیکڑی دھاوے میں 22 افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مقامی نشریاتی اداروں کے مطابق مظاہرین نے بروز اتوار اس کے علاوہ چار کپڑے کی فیکٹریوں میں بھی لوٹ مار کی اور انہیں آگ لگا دی تھی، اس کے علاوہ ایک کھاد بنانے والے کارخانے اور تیل کے ٹرک کو بھی مشتعل مظاہرین نے نذرآتش کر دیا تھا، ان حالات کے پیش نظر اعلیٰ حکام نے بالآخر گولی چلانے کا حکم جاری کیا۔

بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق یکم فروری کو ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے جاری مظاہرے اب پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں، مظاہرین چاقو، ڈنڈوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس ہو کر گھروں سے نکل رہے ہیں، جبکہ اب شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد ان میں مزید سختی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

برما میں چینی سفارت خانے نے چینی سرمایہ کاری کو پہنچنے والے نقصان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ چینی سفارت خانے نے برما میں مقیم چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق بروز اتوار چینی فیکٹریوں میں حملوں کے دوران ان میں کام کرنے والے چینی تکنیکی ماہرین کو بھی نقصان پہنچایا گیا، اور متعدد اہلکار زخمی ہیں۔ سفارتی عملے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت چینی مفادات کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے والے واقعے کی تحقیقات کرے اور ذمہ داران کو سزا دے۔

چین کے خلاف ابھرنے والی نفرت کی وجہ مغربی نشریاتی اداروں کی نفرت پر مبنی رپورٹوں کو مانا جا رہا ہے، جو برمی عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چین نے فوجی بغاوت کی ویسے مذمت نہیں کی جیسے مغربی ممالک نے کی۔

حالات کے پیش نظر فوج نے صنعتی شہر ہلائنگتھایا میں فوجی قانون نافذ کر دیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us