منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ہسپانیہ کے کتب خانے سے گلیلیو کی ستاروں سے متعلق لکھی کتاب چوری، انتظامیہ چار سال تک بے خبر رہی

ہسپانیہ کے قومی کتب خانے سے اٹلی کے معروف سائنسدان گلیلیو گالیلی کی کتاب سدرس نانسیئس (ستاروں کا پیغام) چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ انتظامیہ کو عظیم سائنسدان کے لکھے حقیقی مجموعے کے چوری ہونے اور اسکی جگہ جعلی نمونہ رکھنے کا علم چار سال بعد ہوا ہے۔

کتاب 1610 میں گلیلیو نے لکھی تھی، جس میں خلائی دوربین سے ستاروں کی حرکات و سکنات کے مطالعہ کو درج کیا گیا تھا۔ گلیلیو کی دوربین 8 سے دس گناء طاقت کی حامل دوبین تھی، گلیلیو نے خود سے ایجاد کردہ تکنیکوں کی مدد سے اس کے عدسے کی صلاحیت 20 گناء تک بڑھا لی تھی۔ کتاب میں چاند کی سطح پہ پہاڑوں اور ملکی وے کے دیگر سیاروں کا مطالعہ بھی شامل ہے۔

ہسپانیہ پولیس کے شعبہ تحفظ تاریخ کے اہلکاروں کو کتاب کے چوری ہونے کا علم کچھ معاہدات کے دستاوزات کھو جانے کی تحقیقات کے دوران ہوا۔ یاد رہے کہ 2018 میں کتاب کی قدر 8 لاکھ یورو لگائی گئی تھی۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ معائنے کے دوران انہیں لگا کہ کتاب کا نمونہ 1610 کی نسبت نیا ہے، تاہم یہ ایسڈ سے محفوظ رکھنے والے شیشے کے ڈبے میں ویسے ہی پڑا تھا جیسے حقیقی رکھ گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مجموعہ 2014 میں چوری ہو گیا تھا تاہم 2018 تک انتظامیہ کو اس کا علم ہی نہ ہوا۔ پھر انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات اور کچھ بنیادی معلومات اکٹھے کرنے میں وقت ضائع کیا۔ 2013 سے کتب خانے کی سربراہ کا کہنا ہے کہ اب تک وہ خاطر خواہ معلومات اکٹھی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ یہی مجموعہ 1987 میں بھی چوری کیا گیا تھا تاہم اسے دو سال میں تلاش کر لیا گیا تھا

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us