منگل, دسمبر 7 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

وباء کے نام ریاستی جبر: رشیا ٹوڈے نے بےجا حکومتی پابندیاں ناپنے اور دیگر ممالک سے موازنے کا کلیہ پیش کر دیا، ممالک کی درجہ بندی بھی کر دی

کووڈ -19 وباء سے بیمار ہونے کی شرح کم ہونے کے باوجود کچھ ممالک شہری آزادیوں کو بحال کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ رشیا ٹوڈے نے حکومتوں کا رویہ ناپنے کے لیے ایک عالمی رپورٹ تیار کی ہے جس سے باآسانی حکومتوں کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ رواں سال ایک ارب سے زائد افراد ویکسین یا دیگر طریقہ علاج سے کسی نہ کسی حد تک مستفید ہو جائیں گے لیکن ماہرین کے مطابق مسئلہ ابھی مزید کچھ سال برقرار رہ سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاطی تدابیر کا تسلسل ناگزیر ہو گا اور حکومتوں کو اس کے لیے ضروری قانون سازی کرنا ہو گی۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ انفرادی آزادیوں کو برقرار رکھنا اور نجی زندگی میں ریاست کے بے جامداخلت پر نظر رکھنا اور احتساب بھی بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ایک توازن لانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

رشیا ٹوڈے نے اس حوالے سے ایک کوشش کی ہے جس میں شہریوں کو حکومتی رویے کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی ہے، اور ایک عالمی معیار کے تحت حکمت عملی وضح کی گئی ہے۔ رپورٹ پر کام کرنے والے سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں مقامی اعدادوشمار، حکومتی تعاون اور دیگر مسائل کی وجہ سے معمولی نوعیت کی ردوبدل ہو سکتی ہے لیکن ایک سائنسی کلیہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں درجہ بندی کرتے ہوئے ممالک کی سرحدی بندش کو شامل نہیں کیا گیا، بلکہ صرف حکومت کی اپنے شہریوں پر لگائی جانے سماجی و معاشی پابندیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ حکومتوں کی جابرانہ پالیسیوں کا احتساب کرتے ہوئے انفرادی آزادیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اسے شہریوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔

درجہ بندی رپورٹ شہریوں کو دیگر ممالک سے موازنہ کرنے کی سہولت بھی مہیا کرتی ہے۔

درجہ بندی رپورٹ

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us