ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

مقبوضہ فلسطین: صیہونی انتظامیہ کے انتخابات ایک بار پھر غیر واضح نتائج پر ختم، 2 برسوں میں 5ویں انتخابات کی توقع، عوام کا شدید غم وغصے کا اظہار، کیپیٹل ہل کی طرز پر پارلیمنٹ پر حملے کی اطلاعات، کنیسٹ کی سکیورٹی سخت

مقبوضہ فلسطین پر قابض صیہونی انتظامیہ کی پارلیمنٹ پر حملے کے خوف نے نیندیں حرام کر رکھی ہیں، قابض صیہونی انتظامیہ کو خفیہ اطلاعات ہیں کہ انتخابی نتائج سے ناخوش افراد امریکی کیپیٹل ہل پر دھاوے کی طرز پر پارلیمنٹ ہر حملہ کر سکتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں ہونے والے چوتھے انتخابات کے باعث اس وقت مقبوضہ علاقے میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، جس میں کورونا وباء نے جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا ہے، اور انتظامیہ بڑھتے عوامی غم و غصے کے باعث سخت پریشان ہے۔

صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج سے نالاں سیاسی گروہ امریکی کیپیٹل ہل کی طرز پر کنیسٹ پر حملہ کر سکتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ سکیورٹی اور فوج نے تربیتی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج سے ناخوش صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر ہلہ بول دیا تھا جس کے باعث دنیا بھر میں امریکہ کی جگ ہنسائی ہوئی تھی۔ واقعے میں ایک پولیس افسر سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ امریکی تاریخ کی ہجوم کے خلاف پہلی بڑی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔

عوامی سروے میں نیتن یاہو کی حکمران جماعت لیکود کو کامیاب کہا جا رہا ہے تاہم بدعنوانی کے متعدد واقعات کے باعث نیتن یاہو پر عوام مکی بڑی تعداد اعتماد نہیں کرتی اور اسے مزید حکمران نہیں دیکھنا چاہتی۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو 2009 سے حکومت کر رہے ہیں۔

انتخابات سے محض 3 دن قبل 20 مارچ کو 50 ہزار سے زائد شہریوں نے پارلیمنٹ کے باعث جمع ہو کر نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد جیتنے میں ناکام رہے ہیں اور اب انہیں یا تو کسی چھوٹی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا ہو گا یا دوبارہ انتخابات کروانا ہوں گے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us