ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

جملہ حقوق کے سب سے لمبے چلنے والے مقدمے میں گوگل کی آریکل کے مقابلے میں فتح: کمپیوٹر کوڈ کی چوری جملہ حقوق کے زمرے میں نہیں آتی، امریکی سپریم کورٹ

امریکی سپریم کورٹ نے جملہ حقوق کے ایک اہم مقدمے میں گوگل کے خلاف دخواست مسترد کر دی ہے۔ گوگل کے خلاف معروف ٹیکنالوجی کمپنی آریکل نے دعویٰ دائر کر رکھا تھا کہ گوگل نے اینڈرائڈ کی تیاری میں اسکے جاوا پروگرام کے 11 ہزار 330 فقروں کے کوڈ کو چوری کیا اور بلا اجازت استعمال کیا۔ آریکل نے گوگل پر 8 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا جسے اعلیٰ امریکی عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔ 8 ججوں نے مقدمے کی سماعت کی جن میں سے 6 نے آریکل کی درخواست مسترد کردی جبکہ 2 نے آریکل کے حق میں فیصلہ دیا۔

واضح رہے کہ گوگل نے سماعت میں چوری سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ کہا تھا کہ 2007 میں اینڈرائڈ سسٹم بناتے وقت ٹیکنالوجی کی صنعت میں یہ ایک عمومی رویہ تھا کہ کمپنیاں کوڈ اِدھر اُدھر سے اٹھا کر استعمال کرتی تھیں، اور اس دور میں کوڈ کے حوالے سے جملہ حقوق محفوظ جیسی کوئی چیز عمل میں نہیں تھی۔

فیصلے میں جسٹس سٹیفن بائر نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کیونکہ کوڈ سے عام بھلا ہوا اس لیے اسے عمومی جملہ حقوق کے قانون کے تحت نہیں دیکھا جا سکتا، گوگل کے حق میں فیصلہ دینے والے دیگر ججوں نے بھی اسی مؤقف کو اپناتے ہوئے کہا ہے کہ کمپیوٹر کوڈ کو دیگر جملہ حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ آریکل کے کوڈ کو دیگر سافٹ ویئر ماہرین بھی جانتے تھے، اس لیے اسکے جملہ حقوق کے تحفظ کو دیگر علمی مواد کی ملکیت کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دس سال بعد سنایا ہے اور یہ جملہ حقوق کے کسی مسئلے پر امریکی تاریخ کا سب سے لمبا چلنے والا مقدمہ تھا۔ مقدمے میں دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں آی بی ایم، مائیکروسافٹ نے گوگل کی حمایت جبکہ موشن پکچر ایسوسی ایشن اور ریکارڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن نے آریکل کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

مقدمے کا فیصلہ آنے پر گوگل نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے سافٹ ویئر صنعت کی ترقی کے لیے اہم دن قرار دیا ہے، جبکہ آریکل نے اسے کچھ بڑی کمپنیوں کو مزید مظبوط کرنے اور مقابلے کو ختم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

مقدمے میں آریکل نے دیگر 37 ایپلیکیشنوں کے کوڈ چوری کرنے کا الزام بھی لگایا تھا جسکا گوگل نے یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ کوڈ حروف تہجی ہوتے ہیں انکے حقوق کوئی بھی محفوظ نہیں کر سکتا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us