ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

فلسطین میں جنگی جرائم کی تحقیقات کیلئے قابض صیہونی انتظامیہ کا عالمی فوجداری عدالت سے تعاون سے انکار

عالمی فوجداری عدالت کے فلسطین میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے منصوبے پر قابض صیہونی انتظامیہ نے جواب دائر کیا ہے کہ عدالت کی مجاز ہی نہیں ہے۔

صیہونی میڈیا نے نیتن یاہو، قابض انتظامیہ کے سرغنہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ عالمی عدالت پر واضح کیا جائے گا کہ فلسطین عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہی نہیں، اور اگر کبھی ضرورت پڑے گی تو انتظامیہ خود تحقیقات کروا لے گی۔

یاد رہے کہ 9 مارچ کو جاری ہونے والے حکمنامے میں عدالت نے قابض انتظامیہ کو پابند کیا تھا کہ 9 اپریل تک جواب داخل کرے کہ کیا وہ آزاد یعنی مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں جنگی جرائم کی تحقیقات کروائے گی یا عدالت تحقیقات کروائے؟ واضح رہے کہ اگرچہ یہ علاقے براہ راست اور مکمل طور پر صیہونی کنٹرول میں نہیں ہیں لیکن قابض صیہونی غنڈے مغربی ممالک کی حمایت اور عسکری طاقت کے بل بوتے پر ان علاقوں میں بھی بہت زیادہ مداخلت کرتے ہیں اور یومیہ بنیاد پر جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

صیہونی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ وہ روم معاہدے کا حصہ نہیں ہے جس کے تحت ہیگ میں لگائی عدالت ان سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم پر جواب طلبی کر سکے۔

دوسری طرف فلسطینی انتظامیہ نے عدالت سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے، اور باقائدہ طور پر عالمی فوجداری عدالت کو خط بھی لکھ دیا ہے۔

یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ ماہ سنوائی کے دوران 2014 سے فلسطین میں صیہونی فوجی غنڈوں اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس موقع پر اپنے اختیار کو بھی واضع کیا تھا اور خود کو تحقیقات کا مجاز قرار دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے علاقے عالمی سطح پر مقبوضہ مانے جاتے ہیں، جن ہر صیہونی فوجی جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، عالمی عدالت ان علاقوں میں تحقیقات کا پورا اختیار رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ 2014 میں غزہ پر صیہونی فوج کی چڑھائی کے دوران 2251 فلسطینی شہید ہو گئے تھے جن میں سے 1462 عام شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن نے 51 روزہ اس جنگ پر تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی اور صیہونی انتظامیہ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us