پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

مصر کا ترکی کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کا خیرمقدم: دونوں مسلم ممالک میں 8 سال بعد سفارتی تعلقات بحال، رمضان کی مبارکباد کا تبادلہ

مصری وزیرخارجہ نے ترکی کی جانب سے تعلقات بحال کرنے اور بات چیت کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ مصری عہدے دار کا کہنا تھا کہ وہ بھی ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور انہیں اچھا لگا کہ ترکی نے بات چیت کی دعوت دی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے تعلقات صدر مرسی کو فوجی بغاوت میں اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے خراب ہیں، ترکی ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے منتخب صدر مرسی کی حمایت میں کھل کر بات کی تھی اور آمر صدر الفتح السیسی کے ساتھ تعلقات کو استوار نہ کیا تھا۔

تاہم علاقائی اور عالمی سیاست میں بدلتی صورتحال کے باعث ترکی نے اپنی پالیسی کے ساتھ رجوع کیا اور کچھ عرصہ قبل چھوٹے پیمانے پر تعلقات کو بحال کیا۔ اب بات چیت کو شروع کرنے کی پیشکش پر مصری دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ مصر بھی ترکی کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے عین مطابق تعلقات استوار ہوں، جن میں ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان نہ پہنچایا جائے، تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

بروز ہفتہ ترک وزیر خارجہ میلاد چاوش اوعلو نے مصری وزیر خارجہ کو فون کیا اور رمضان کی مبارکباد دی۔ اس سے پہلے کچھ ہفتے قبل ترکی اور مصر نے دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں، جو 2013 سے منقطع تھے۔ تعلقات کی خرابی کی اول وجہ منتخب صدر مرسی کے خلاف بغاوت تھی البتہ بعد میں علاقائی مسائل پر اختلافات بھی طوالت کا باعث بنے، جن میں لیبیا خانہ جنگی میں مخالف گروہوں کی حمایت، بحیرہ روم میں وسائل کی تلاش اور حق کے دعوے اور دشمن ممالک کی حمایت شامل تھے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us