ہفتہ, April 9 Live
Shadow
سرخیاں
افغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلانمغرب کے دوہرے معیار: دنیا پر روس سے تجارت پر پابندیاں، برطانیہ سمیت بیشتر مغربی ممالک روس سے گیس و تیل کی خریداری جاری رکھیں گے

مصر کا ترکی کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کا خیرمقدم: دونوں مسلم ممالک میں 8 سال بعد سفارتی تعلقات بحال، رمضان کی مبارکباد کا تبادلہ

مصری وزیرخارجہ نے ترکی کی جانب سے تعلقات بحال کرنے اور بات چیت کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ مصری عہدے دار کا کہنا تھا کہ وہ بھی ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور انہیں اچھا لگا کہ ترکی نے بات چیت کی دعوت دی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے تعلقات صدر مرسی کو فوجی بغاوت میں اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے خراب ہیں، ترکی ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے منتخب صدر مرسی کی حمایت میں کھل کر بات کی تھی اور آمر صدر الفتح السیسی کے ساتھ تعلقات کو استوار نہ کیا تھا۔

تاہم علاقائی اور عالمی سیاست میں بدلتی صورتحال کے باعث ترکی نے اپنی پالیسی کے ساتھ رجوع کیا اور کچھ عرصہ قبل چھوٹے پیمانے پر تعلقات کو بحال کیا۔ اب بات چیت کو شروع کرنے کی پیشکش پر مصری دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا ہے کہ مصر بھی ترکی کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، اور چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے عین مطابق تعلقات استوار ہوں، جن میں ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان نہ پہنچایا جائے، تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

بروز ہفتہ ترک وزیر خارجہ میلاد چاوش اوعلو نے مصری وزیر خارجہ کو فون کیا اور رمضان کی مبارکباد دی۔ اس سے پہلے کچھ ہفتے قبل ترکی اور مصر نے دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں، جو 2013 سے منقطع تھے۔ تعلقات کی خرابی کی اول وجہ منتخب صدر مرسی کے خلاف بغاوت تھی البتہ بعد میں علاقائی مسائل پر اختلافات بھی طوالت کا باعث بنے، جن میں لیبیا خانہ جنگی میں مخالف گروہوں کی حمایت، بحیرہ روم میں وسائل کی تلاش اور حق کے دعوے اور دشمن ممالک کی حمایت شامل تھے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us