ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

ہندوستان میں کورونا نے تباہی مچا دی، اتحادی امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا: ویکسین کا خام مال دینے سے انکار برقرار، ترجیح امریکی ہیں، ہندوستان کو امداد دے سکتے ہیں، ویکسین نہیں

امریکہ ہندوستان کو کورونا ویکسین کے خام مال کی برآمد پر پابندی لگانے کے باعث آج کل شدید تنقید کی زد میں ہے، تاہم اب بھی اس حوالے سے واضح مؤقف اپنانے کے بجائے بائیڈن انتظامیہ مبہم تفصیلات کے ساتھ امداد کے وعدوں سے ہندوستان کو رام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں یومیہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ کورونا کے مریض سامنے آرہے ہیں۔ بیماری میں اضافے کے ساتھ ساتھ کچھ اسپتالوں میں آکسیجن کی بھی قلت ہے۔ ایسے میں ہندوستان امریکہ سے کرونا سے متعلق اہم حفاظتی ٹیکوں کے خام مال کی برآمد پر پابندی ختم کرنے کی اپیل کر رہا ہے، لیکن اب تک اس کی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں بھی عندیا دیا ہے کہ انکی ترجیح صرف امریکہ ہو گی۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں سرائے ابیض کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت میں مصروف ہے، اور جلد ہی مزید معلومات جاری کردی جائیں گی۔ انہوں نے ایجنسی کو مزید بتایا ، “ہم بہت جلد مزید معلومات فراہم کرینگے۔ 
سرائے ابیض سے بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ بڑے کاروباری لابنگ گروہ، ماہرین صحت اور سیاسی قائدین امریکہ پر ویکسین کے  غیر مستعمل ذخیروں کو عطیہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ ویکسین ان ممالک کو بھی عطیہ کی جائے جو اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
جمعہ کے روز امریکی چیمبر آف کامرس نے بھی حکومت پر ہندوستان، برازیل اور وبائی امراض سے دوچار دیگر اقوام کو “اسٹرا زینیکا ویکسین کی ذخیرہ شدہ خوراکیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بڑے تاجر حضرات کا کہنا ہے کہ اقدام امریکی نیک نامی کا باعث بنے گا، اور ایک بار پھر تصدیق ہو گی کہ دنیا بڑے مسائل سے مل کر نمٹ سکتی ہے۔

شعبہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا تب تک وبائی امراض سے محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک سب اس کے خلاف مدافعت پیدا نہ کر لیں۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں اس وقت یومیہ ساڈھے 3 لاکھ سے زائد مریض سامنے آرہے ہیں، جبکہ ہفتہ کے روز 2،624 افراد کی موت درج ہوئی تھی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us