اتوار, مئی 9 Live
Shadow
سرخیاں
روسی بحریہ میں ایک اور جدید ترین آبدوز کازان شاملچینی راکٹ خلائی اسٹیشن منزل پر کامیابی سے پہنچا کر بحیرہ ہند کی فضاؤں میں جل کر بھسم: آبادی والے علاقے میں گرنے کے مغربی پراپیگنڈے پر چین کا افسوس کا اظہارکابل: اسکول پر راکٹ حملے میں متعدد طالبات سمیت 30 جاں بحق، 50 زخمیروس: دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کا جشن، ماسکو میں فوجی پریڈ کا انعقاد – براہ راست ویڈیومالدیپ کے سابق صدر محمد نشید بم حملے میں بال بال بچ گئےبرازیل میں پولیس کے منشیات فروشوں کے خلاف چھاپے جاری: 3 روز میں 1 پولیس افسر سمیت 28 ہلاکعراق: نیٹو افواج کے زیر استعمال ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ، کوئی جانی نقصان نہ ہونے کا دعویٰامریکی تیل ترسیل کی سب سے بڑی کمپنی پر سائبر حملہ: ملک بھر میں پہیہ جام ہونے کا خطرہ منڈلانے لگااسرائیل کوئی ریاست نہیں ایک دہشت گرد کیمپ ہے: ایرانی ریاستی سربراہ علی خامنہ ایاطالوی پولیس افسر کے قتل کے جرم میں دو امریکی سیاحوں کو عمر قید کی سزا

بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے فوج نکالنے کے بجائے بڑھانا شروع کر دی

امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدے کے تحت افغانستان سے فوج نکانے کے بجائے مزید فوج بھیجنا شروع کر دی ہے۔ قصر ابیض کے ایک بیان کے مطابق امریکی فوج بیس سال سے زائد عرصے کے بعد انخلاء کے لیے مخفوظ راستہ چاہتی ہے۔ امریکہ نے طالبان اور دیگر مخالفین کو متنبہ کیا ہے کہ انخلاء کے دوران فوج پر حملوں کی صورت میں امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ اپنے تمام وسائل سے دفاع کرے گا۔ حتمی انخلاء سے پہلے امریکی موجودگی کو عارضی طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں بی-52 ایچ اسٹریٹوفورٹریس بمباروں کو متحرک کر دیا ہے، جو مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کا احاطہ کرنے والی امریکی فوجی کمانڈ ہے۔

یاد رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں امریکہ نے یکم مئی 2021 تک مکمل انخلاء کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کے جانشین جوبائیڈن نے اس معاہدے میں توسیع مانگی ہے، جس حوالے سے تاحال طالبان کی طرف سے ہاں یا نہ کا جواب نہیں آیا۔

شدید دباؤ پر صدر بائیڈن نے رواں ماہ کے شروع میں نئی تاریخ کا اعلان کیا تھا اور 9/11 کی اگلی سالگرہ سے قبل انخلاء کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

طالبان کے اب تک سامنے آئے بیان کے مطابق یکم مئی تک انخلاء نہ ہونے پر وہ دوبارہ حملہ شروع کر دیں گے۔

واضح رہے کہ صدر بائیڈن نے فوجی قیام میں توسیع کے ساتھ ساتھ افغانستان میں سیاسی و سماجی مداخلت کے منصوبے بھی پیش کیے ہیں۔ بائیڈن منصوبوں میں افغانستان کے آئین کو ازسر نو لکھنے، نئے انتخابات کا بندوبست کرنے اور طالبان اور اشرف غنی کی انتظامیہ کے مابین اقتدار میں شراکت داری کا معاہدہ کرانے کا منصوبہ شامل ہے۔

بدھ کی رات کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے پہلے خطاب میں صدر بائیڈن نے افغانستان سے واپسی اور مستقبل میں خطے میں امریکی مفادات کو درپیش خطرات پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا۔ انکا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ کے جامع منصوبے کے خدوخال ابھی واضح نہیں ہیں، نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے وسط ایشیائی ریاستوں تاجکستان، ازبکستان اور قزاقستان میں دوبارہ افواج کی تعیناتی پر تبادلہ خیال شروع کردیا ہے۔

افغانستان میں امریکہ کی اب تک کی سب سے طویل جنگ نے تقریباً 2400 امریکی فوجیوں، 3800 ٹھیکیداروں اور لاکھوں افغان شہریوں کی جانیں لی ہیں، اور امریکی ٹیکس دہندگان کو 2 کھرب ڈالر سے زائد کا خرچہ اٹھانا پڑا ہے۔ اس سب کے باوجود آج بھی طالبان افغانستان کا نصف سے زائد حصہ طالبان کے زیر انتظام ہیں، جو امریکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us