پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

فرانس: خانہ جنگی کے خط کا حصہ بننے پر 18 حاضر افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز

فرانسیسی فوج کے سربراہ کے ایک بیان کے مطابق فوج کے 18 حاضر افسران کو صدر ایمینول میخرون کے نام خانہ جنگی کے بارے میں تنبیہی خط پر دستخط کرنے کی پاداش میں فوجی عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسلح افواج کے سربراہ جنرل فرانکوئس نے بتایا کہ شناخت کیا گیا ہر فوجی اور افسر ایک اعلیٰ فوجی کونسل کے سامنے پیش ہو گا اور ان سب کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی، مقامی میڈیا کے مطابق افسران کی برطرفی اور انکے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں سپہ سالار نے مزید کہا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اعلیٰ ذمہ داریاں زیادہ غیر جانبدار رویے کا تقاضا کرتی ہیں، ایک متنازعہ سیاسی مکتوب کا حصہ بننے پر افسران کو جبر ی معطل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اب یہ فیصلہ فوجی کونسل ہی کرے گی۔

واضح رہے کہ فوجی افسران کے خلاف تادیبی کارروائی انکے ایک متنازعہ خط کا حصہ بننے پر عمل میں لائی جا رہی ہے، مذکورہ مکتوب میں کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں اور حاضر اعلیٰ عسکری عہدے داروں نے صدر کو ملک میں خانہ جنگی کے حالات سے تنبیہ کی تھی اور ملک ٹوٹنے کا اشارہ دیا تھا۔

خط میں تارکین وطن اور مسلمانوں کو خطرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کہ فرانس پہلے ہی اسلام دشمنی میں سخت قانون سازی کر چکا ہے، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us