Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

فرانس: خانہ جنگی کے خط کا حصہ بننے پر 18 حاضر افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز

فرانسیسی فوج کے سربراہ کے ایک بیان کے مطابق فوج کے 18 حاضر افسران کو صدر ایمینول میخرون کے نام خانہ جنگی کے بارے میں تنبیہی خط پر دستخط کرنے کی پاداش میں فوجی عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسلح افواج کے سربراہ جنرل فرانکوئس نے بتایا کہ شناخت کیا گیا ہر فوجی اور افسر ایک اعلیٰ فوجی کونسل کے سامنے پیش ہو گا اور ان سب کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی، مقامی میڈیا کے مطابق افسران کی برطرفی اور انکے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں سپہ سالار نے مزید کہا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اعلیٰ ذمہ داریاں زیادہ غیر جانبدار رویے کا تقاضا کرتی ہیں، ایک متنازعہ سیاسی مکتوب کا حصہ بننے پر افسران کو جبر ی معطل بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اب یہ فیصلہ فوجی کونسل ہی کرے گی۔

واضح رہے کہ فوجی افسران کے خلاف تادیبی کارروائی انکے ایک متنازعہ خط کا حصہ بننے پر عمل میں لائی جا رہی ہے، مذکورہ مکتوب میں کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں اور حاضر اعلیٰ عسکری عہدے داروں نے صدر کو ملک میں خانہ جنگی کے حالات سے تنبیہ کی تھی اور ملک ٹوٹنے کا اشارہ دیا تھا۔

خط میں تارکین وطن اور مسلمانوں کو خطرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کہ فرانس پہلے ہی اسلام دشمنی میں سخت قانون سازی کر چکا ہے، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

15 − three =

Contact Us