ہفتہ, جنوری 15 Live
Shadow
سرخیاں
قازقستان ہنگامے: مشترکہ تحفظ تنظیم کے سربراہ کا صورتحال پر قابو کا اعلان، امن منصوبے کی تفصیلات پیش کر دیںبرطانوی پارلیمنٹ میں منشیات کا استعمال: اسپیکر کا سونگھنے والے کتے بھرتی کرنے کا عندیاامریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟

فلسطین پر قابض صیہونی تمام حدود پھلانگ چکے، انہیں روکنا ہو گا: ترک صدر کا عالمی قیادت اور یو این کے ساتھ ساتھ اسلامی تعاون تنظیم سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

ترک صدر رجب طیب ایردوعان نے ایک بار پھر فلسطین میں صیہونی جارحیت پر روک لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ غزہ میں قابض صیہونی فضائیہ کے حملوں کا نشانہ بننے والے ترک نشریاتی ادارے کے صحافی اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں کا ذکر کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ قابض صیہونی انتظامیہ کی جارحیت کو روکنے کے لیے عالمی دنیا کو تیز رفتار اقدام اٹھانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز قابض صیہونی بیت المقدس کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں، جہاں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے مقدس مقامات واقع ہیں۔

صدر ایردوعان نے ایک ویڈیو کانفرنس میں اپنی سیاسی جماعت کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی اپنی قراردادوں کے مطابق بیت المقدس میں امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔ ترکی اقوام متحدہ کے اعلان کردہ کسی بھی اقدام کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی قوم خاموش نہیں رہےگی، چاہے باقی ساری دنیا غزہ میں ہونے والے ظلم کو نظرانداز کردے۔

یاد رہے کہ گزشتہ 6 روز میں قابض صیہونی حملوں میں کم از کم 160 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1000 سے زائد زخمی ہیں۔

حماس کے داغے راکٹوں میں اب تک 10 سے زائد صیہونی آبادکاروں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ترک صدر نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) پر بھی مسئلے پر ٹھوس مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس میں ناکامی تنظیم کے وجود پر ایک سوال ہے اور تنظیم کے لیے  بدنامی کا باعث بنتی ہے۔

واضح رہے کہ او آئی سی آج اپنا ہنگامی اجلاس کرے گی جس میں تازہ صورتحال کا جائزہ لے کر شیخ جراح پہ ناجائز آباد کاری کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضح کی جائے گی۔

ترک صدر نے نام لیے بغیر کچھ ممالک کی قیادت کو تنبیہ کی کہ جن لوگوں نے “سیاسی فوائد کے لیے خاموش اختیار کی یا قابض صیہونی انتظامیہ کی حمایت کی وہ یاد رکھیں کہ ظلم کا ساتھ دینے پر ان کی باری بھی ایک دن آئے گی”۔

اس سے قبل آسٹریا اور جرمنی سمیت متعدد مغربی ممالک کے رہنماؤں نے قابض صیہونی انتظامیہ کے لیے” دفاع” کے نام پر حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔  فرانس اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے تل ابیب کی حمایت کرنے پر داد حاصل کی ہے۔

اردوان نے کہا کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بارے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سمیت تقریبا 20 ممالک کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

رواں ہفتے کے شروع میں، ماسکو نے تل ابیب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر تشدد بند کرے اور فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کو روک دے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us