پیر, جون 14 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

غلطیاں اور سبق

گورنمنٹ پائلٹ سکول، سیالکوٹ آٹھویں جماعت میں ہمیں ماسٹر فیروز دین صاحب ڈرائنگ سیکھاتے تھے، بہت اعلیٰ ظرف کے انسان اور مشفق استاد تھے۔ ڈرائنگ کے پیریڈ میں پوری جماعت کو ڈرائنگ روم میں جانا پڑتا تھا۔ ڈرائنگ روم قابل دید تھا، پورا ڈرائنگ روم فیروز دین صاحب کے شاہکاروں سے سجا ہوا تھا۔ ایک دن انہوں نے سب طلباء کو گھر سے سیب بنا کر لانے کا کام دیا۔
اگلے دن گھریلو مشق دیکھتے ہوئے ایک لڑکے کو کھڑا کیا اور قدرے برہمی سے بولے کہ “یہ تم نے سیب بنا کر نیچے سیب کیوں لکھا ہے؟ کیا تمہیں شک ہے کہ دیکھنے والا اسے سیب کی بجائے کچھ اور سمجھ لے گا؟؟؟

پھر بولے کہ “تم کام ہی ایسا کرو کہ وہ خود بولے، تمہارا کام دیکھتے ہی دیکھنے والا اسے بلا وضاحت پہچان جائے کہ یہ سیب ہے۔”

پھر تھوڑے تؤقف کے بعد پوری جماعت سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ “کام کا معیار انسان کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ زندگی میں جو بھی کام کرو پوری لگن، محنت اور سلیقے سے کرو تاکہ آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو”۔

بات تو سادی سی تھی مگر اس میں پوری جماعت کے لیے ایک انمول سبق پنہا تھا اور یہ سبق ایک طالب علم کی چھوٹی سی غلطی سے ہم سب نے سیکھا۔

غور کیا جائے تو ہر غلطی انسان کو ایک نیا سبق سیکھاتی ہے۔ کچھ لوگ ایک دفعہ غلطی کر کے سبق سیکھ لیتے ہیں اور کچھ بار بار وہی غلطی دہراتے رہتے ہیں مگر سبق نہیں سیکھتے۔

ڈاکٹر شاہد رضا
دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us