امریکہ نے نارڈ سٹریم-2 منصوبے کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے جرمنی کے لیے روسی گیس لائن منصوبے کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے، امریکہ کا منصوبے کو روکنا اور اسکی کوشش کرنا اتحادیوں کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً جب کہ منصوبہ تکمیلی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔
صدر بائیڈن نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگرچہ وہ ہمیشہ سے نارڈ اسٹریم-2 کے مخالف تھے لیکن انکے اقتدار میں آنے سے قبل ہی منصوبہ تقریباً مکمل ہوگیا تھا، اور اگر اب انہوں نے پابندیاں لگائیں تو اسکے سنگین نتائج نکلیں گے اور اس سے امریکہ یورپ تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔
واضح رہے کہ صدر بائیڈن کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب قصر ابیض اور کریملن نے 16 جون کو جنیوا میں صدارتی ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ قصر ابیض نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ نارڈ اسٹریم-2 منصوبہ روس اور امریکہ کے درمیان جاری کئی محاذوں میں سے صرف ایک لیکن اہم معاملہ تھا۔ سمندر کے راستے جرمنی کو گیس فراہم کرنے کے منصوبے منصوبے پر امریکہ کا بنیادی اعتراض ہے کہ اس سے نیٹو اتحادی پر روسی اثر بڑھے گا اور امریکی برتری کم ہو جائے گی۔ رواں ماہ کے شروع میں صرف 100 کلو میٹر پائپ لائن بچھانے کے بعد منصوبہ جرمنی میں آئندہ 26 ستمبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل مکمل ہوسکتا ہے۔
گذشتہ ہفتے نارڈ اسٹریم-2 کے اہم عہدے داروں مثلاً متھیاس وارنیگ کے خلاف پابندیاں ختم کرنے سے اشارہ ملا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اب اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اقدام پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ افراد امریکی قانون کے تحت قابل پابندی سرگرمیوں میں ملوث تھے لیکن امریکی قومی سلامتی کے پیش نظر انہیں استثنیٰ دیا جارہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے پائپ لائن کی تعمیر میں مصروف 13 روسی بحری جہازوں اور دیگر تین اداروں سے بھی پابندیاں ہٹا دی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ روسی گیس لائن سے یوکرائن کے لیے بھتے کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے لیکن اسے اس مقصد میں بھی ناکامی ہوئی ہے، اور تو اور امریکہ یورپی اتحادیوں کو مہنگی امریکی گیس خریدنے پر بھی مجبور کرتا رہا ہے لیکن اسکا یہ منصوبہ بھی ناکام رہا اور اب روس کی یورپی گیس مارکیٹ پر اجارہ داری قائم ہو گئی ہے۔ جسے روس ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ روس پہلے ہی یورپی یونین کی 40 فیصد ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
تذویراتی خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صدر بائیڈن نے مغربی مفادات کے تحفظ کے لیے یورپی اتحادیوں کو ابھارا ہے اور میڈیا سے گفتگو میں بھی کہا ہے کہ انہیں امید ہے اتحادی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیں گے۔
دوسری طرف جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے امریکہ کی جانب سے نارڈ اسٹریم-2 پر پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ وہ اگلے ماہ برطانیہ میں جی۔7 سربراہی اجلاس میں صدر بائیڈن کے ساتھ منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گی اور آئندہ کی حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی۔
