پیر, جون 14 Live
Shadow
سرخیاں
ترکی: 20 ٹن سونا اور 5 ٹن چاندی کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی سالانہ پیداوار 42 ٹن کا درجہ پار کر گئی، 5 برسوں میں 100 ٹن تک لے جانے کا ارادہحکومت پنجاب کا ویکسین نہ لگوانے والوں کے موبائل سم کارڈ معطل کرنے کی پالیسی لانے کا فیصلہموساد کے سابق سربراہ کا ایرانی جوہری سائنسدان اور مرکز پر سائبر حملے کا اعترافی اشارہ: ایرانی سائنسدانوں کو منصوبہ چھوڑنے پر معاونت کی پیشکش کر دییورپی اشرافیہ و ابلاغی اداروں کے برعکس شہریوں کی نمایاں تعداد نے روس کو اہم تہذیبی شراکت دار و اتحادی قرار دے دیاروسی بحریہ نے سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید ترین بحری جہاز کا مکمل نمونہ تیار کر لیا: مکمل جہاز آئندہ سال فوج کے حوالے کر دیا جائےگاٹویٹر کو نائیجیریا میں دوبارہ بحالی کیلئے مقامی ابلاغی اداروں کی طرح لائسنس لینا ہو گا، اندراج کروانا ہو گا: افریقی ملک کا امریکی سماجی میڈیا کمپنی کو دو ٹوک جواب، صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندی پر ستائش کا بیانکاراباخ آزادی جنگ: جنگی قیدی چھڑوانے کے لیے آرمینی وزیراعظم کی آزربائیجان کو بیٹے کی حوالگی کی پیشکشمجھ پر حملے سائنس پر حملے ہیں: متنازعہ امریکی مشیر صحت ڈاکٹر فاؤچی کا اپنے دفاع میں نیا متنازعہ بیان، وباء سے شدید متاثر امریکیوں کے غصے میں مزید اضافہچین 3 سال کے بچوں کو بھی کووڈ-19 ویکسین لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیاایرانی رویہ جوہری معاہدے کی بحالی میں تعطل کا باعث بن سکتا ہے: امریکی وزیر خارجہ بلنکن

امریکی ڈالر چینی یوآن کے مقابلے میں 3 سال کی کم ترین سطح پر گر گیا

عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی ڈالر اس وقت چینی یوآن کے مقابلے میں تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسکی بظاہر وجہ کورونا وباء کے اثرات سے کامیابی سے نکلنے کے باعث سرمایہ کاروں کی چینی معیشت میں پیسہ لگانا ہے، جبکہ امریکی ڈالر اس کے برعکس مختلف عالمی سکوں کے مقابلے میں مسلسل دوسرے ماہ خسارے میں جا رہا ہے۔ یوآن اس وقت ڈالر کے مقابلے میں 6.3553 پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ ماہرین مالیات کا کہنا ہے کہ چینی حکام یوآن کو مکمل عروج سے روکے ہوئے ہیں۔

ڈالرکی قیمت میں گراوٹ کی وجہ کورونا وباء کے باعث اشیاء کی رسد میں خلل اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔

 ایف ایکس اور کموڈٹی ریسرچ کے سربراہ الوریچ لیچٹمین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں موجود حالیہ افراط زر عبوری ہے، جبکہ اگلے سال امریکی افراط زر 2.5 فیصد پر رہنے کے امکان کا ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ڈالر کی قیمت طے کرنا آسان نہیں ہے لیکن اگر صورتحال میں کچھ توازن آیا تو ڈالر کو موجودہ سطح پر استحکام مل سکتا ہے، لیکن بڑھوتری مشکل ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us