ہفتہ, نومبر 27 Live
Shadow
سرخیاں
نائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیاماحولیاتی تحفظ کی مہم کیوں ناکام ہے؟: کینیڈی پروفیسر نے امیر مغربی ممالک کو زمہ دار ٹھہرا دیااتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے: امریکی وزیردفاعروس اس وقت آزاد دنیا کا قائد ہے: روسی پادری اعظم کا عیسائی گھرانوں کی امریکہ سے روس منتقلی پر تبصرہ

ہم جنس پرستی کے پرچار پر یورپی اتحاد بری طرح تقسیم: ہنگری کی قیادت میں سلوینیا اور دیگر وسطی و مشرقی ممالک سامنے آگئے، “خیالی یورپی اقدار” کو تھوپا نہ جائے، اتحاد ٹوٹ جائے گا، وزیراعظم جینز جانسا

غیر فطری رویے، ہم جنس پرستی کے خلاف یورپ کے بڑے ایوانوں میں بھی مزاحمت زور پکڑ رہی ہے۔ وسط یورپی ملک سلوینیا کے وزیراعظم جینز جانسا نے ہنگری کی جانب سے ہم جنس پرستی پر مبنی نصاب کو اسکولوں کا حصہ بنانے سے انکار کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی اتحاد میں شامل مغربی ممالک خود ساختہ اور خیالی یورپی اقدار کے نام پر مقامی تہذٰبوں کو تباہ نہیں کر سکتے، وہ اس روہے کی شدت سے مذمت کرتے ہیں۔

سلوینیا وسط یورپ میں اٹلی، ہنگری، کروشیا اور آسٹریا کے ساتھ سرحدیں رکھنے والا ایک چھوٹا ملک ہے، جس کی آبادی صرف 21 لاکھ نفوس پر مبنی ہے۔

یورپی کونسل کی صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی سلوینیا کے وزیراعظم نے واضح کر دیا کہ وہ شاید اتحاد کے بیشتر مغربی ممالک کے لیے آسان ہڈی ثابت نہ ہوں، اور انکی ترجیحات مختلف ہوں گی۔ وزیراعظم جانسا نے یورپی میڈیا اور عدلیہ کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انکے ہم جنس پرستی کےحوالے سے پرچار اور فیصلوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم جانسا نے واضح الفاظ میں کہا کہ خیالی لبرل اقدار کو مسلط کرنا یورپی اتحاد کے ٹوٹنے کا باعث بنے گا۔ اتحاد میں موجود طاقتور ممالک کو اس حوالے سے اپنا رویہ درست کرنا ہو گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ایک بڑا جغرافیائی اتحاد ہونے کی وجہ سے اتحاد میں مختلف تہذیبیں اور روایات کے حامل معاشرے آباد ہیں، لہٰذا ان میں موجود اختلاف رائے کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ہم جنس پرستی کے پرچار پر نمایاں اختلافات کی وجہ سے مغربی یورپ اور وسطی و مشرقی یورپ کے اتحادی ممالک کے مابین کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مغربی ممالک کے دباو میں یورپی اتحاد تمام رکن ممالک کو ہم جنس پرستی کا سبق اسکولوں میں پڑھانے کا پابند بنا رہا ہے، اتحاد کا موقف ہے کہ ہر گروہ کو اپنے نظریے کے پرچار کا حق یورپی اقدار کا حصہ ہے، جسے مشرقی یورپ اور وسط یورپی ممالک سرے سے مسترد کرتے ہیں اور اسے زور زبردستی بے ہودگی اپنانے کا اقدام قرار دیتے ہیں۔

ہم جنس پرستی کے خلاف مزاحمتی گروہ نے اپنی نمائندگی کے لیے ہنگری کے وزیراعظم ویکتر اوربان کو زمہ داری دی ہے، گروہ کے کھل کر مزاحمت کرنے پر انتہا پسند لبرل میڈیا سخت نالاں ہے اور ان کے خلاف سخت پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہنگری نے ملک میں ہم جنس پرستی کے پرچار پر باقائدہ پابندی لگا دی تھی، جس پر اتحاد کے 17 رکن ممالک خصوصاً مغربی ممالک نے ہنگری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا، انکا کہنا ہے کہ ہنگری نے ہم جنس پرست گروہ کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

دوسری ہنگری کے وزیراعظم اوربان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے کسی کو اپنے نظریے کی تبلیغ سے نہیں روکا، صرف والدین کے اس حق کو محفوظ کیا ہے جس کے تحت وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کیا پڑھائیں۔ سلوینیا کے وزیراعظم جانسا نے بھی ہنگری کے وزیراعظم کے موقف کی تائید کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ والدین کا حق ہے کہ انکے بچوں کو کیا پڑھایا جائے۔ انکا کہنا ہے کہ ہنگری کے وزیراعظم کا اقدام کسی گروہ کے ساتھ تفریق نہیں کرتا۔

دوسری طرف قانونی موقف کے ساتھ ساتھ دونوں گروہوں میں نسلی تعصب اور تنقید پر مبنی جملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے، وزیراعظم اوربان کا کہنا ہے کہ انہیں جرمن ذہنیت قبول نہیں، ہنگری یورپی یونین کی غلام ریاست نہیں ہے۔ اس سے پہلے مخالف گروہ کے ایک نمائندہ اعلیٰ عہدے دار نے ہنگریکو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہنگری ہم جنس پرستی پر یورپی اتحاد کے نظریے سے متفق نہیں تو اسے اتحاد میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

دیگر معاشی و سیاسی مسائل کے ساتھ ساتھ اب تہذیبی مسائل بھی یورپی اتحاد کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us