اتوار, فروری 5 Live
Shadow
سرخیاں
پاکستان کے بعد ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی امن نوبل انعام کے لیے ترک صدر کو نامزد کر دیاافغانستان میں امریکی فوج کی جانب سے تشدد کی تربیت کے لیے بلوچی قیدی کو استعمال کرنے کا انکشافہندوستانی میزائل کا مبینہ غلطی سے پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ: امریکہ کی طرف سے متعصب جبکہ چین کی جانب سے نصیحت آمیز ردعملمیٹا آسٹریلوی سیاستدانوں کو سائبر حملوں اور جھوٹی خبروں سے بچنے کی تربیت دے گییوکرین: مغربی ممالک سے آئے 180 سے زائد جنگجو ہوائی حملے میں ہلاک، روس کی مغربی ممالک کو تنبیہ، سب نشانے پر ہیں، چُن چُن کر ماریں گےاسرائیل پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ: وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزارت صیہونی بہبود کی ویب سائٹیں ہیک اور تلفروس اور یوکرین کے مابین جلد امن معاہدہ طے پا جائے گا: روسی مذاکرات کاریوکرینی مہاجرین کی تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی: اقوام متحدہفیس بک اور انسٹاگرام کی شدید متعصب پالیسی کا اعلان: روسی صدر اور فوج کیخلاف نفرت اور موت کے پیغامات شائع کرنے کی اجازت، نتیجتاً مغربی ممالک میں آرتھوڈاکس کلیساؤں اور روسی کاروباروں پر حملوں کی خبریںترکی کا بھی روس کے ساتھ مقامی پیسے میں تجارت کرنے کا اعلان

جرمنی: پولیس نے بچوں اور جانوروں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو آن لائن پھیلانے والے 1600 افراد کا جال پکڑ لیا، مجرمانہ مواد کی تشہیر کیلئے بچوں کے استعمال کا بھی انکشاف

جرمنی کی پولیس نے 1600 ایسے افراد کے جال کا سراغ لگایا ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جانوروں کے ساتھ جنسی تعلق کی رغبت رکھتے ہیں اور اسکی ویڈیو و تصاویر آن لائن پھیلانے میں مصروف ہے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ افراد میں سے کچھ کم عمر بھی ہیں۔

پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مشتبہ افراد کا تعلق مختلف مغربی اقوام سے ہے جن میں فرانس، امریکہ، آسٹریا اور سویزرلینڈ نمایاں ہیں۔

پولیس کے مطابق افراد پر دو دفعات لگائی گئی ہیں اور انہیں کم از کم ایک سال کی سزا سنائی جا سکے گی۔ پولیس کے مطابق انہوں نے رواں سال مارچ میں آن لائن بچوں سے فحش گفتگو کی ایک شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا، اور بالآخر اس بڑے جال کو پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس کے پاس مشتبہ افراد کے خلاف بطور ثبوت بڑی مقدار میں مواد موجود ہے۔

تحقیقاتی افسر پیٹر کرامر کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اسکی ویڈیو کے پھیلاؤ کی شکایات میں گزشتہ کچھ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اب اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن چیٹ کے ذریعے بچوں کو پھنسایا جاتا ہے اور پھر انہی کو لالچ یا خوف سے آن لائن مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایسے گروہوں میں شمولیت کو ہی جرم قرار دے دیا گیا ہے، اور اب یہی وجہ کسی کو سزا دینے کے لیے کافی ہو گی، جبکہ ایسے مواد کی برآمدگی پر الگ سے سزا کا باعث ہو گی۔

پولیس نے والدین اور اساتذہ سے بچوں کو ایسے معاملات اور انکے نقصانات سے متعلق آگاہی دینے کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ اہلکار نے 14 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل اور دیگر برقی آلات کی بڑوں کی موجودگی کے بغیر استعمال اور غیر ضروری ایپلیکیشنوں خصوصاً سماجی میڈیا کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی کی پولیس نے رواں سال کے آغاز میں خفیہ نیٹ پر بھی 4 لاکھ افراد کے ایک گروہ کی نشاندہی کی تھی جو بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو اور تصاویر کا مواد خریدتے تھے، گروہ کو مواد مختلف مغربی ممالک کے 4 افراد مہیا کرتے تھے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

two × 2 =

Contact Us