جمعہ, ستمبر 24 Live
Shadow
سرخیاں
دہلی: عدالت میں مافیا گروہ کا سرغنہ قتل، وکیل کے لباس میں آئے حملہ آور بھی مارے گئے، خاتون وکیل سمیت 6 افراد زخمی – ویڈیومعروف انقلابی رہنما چی گویرا کے قتل سمیت متعدد عالمی سازشوں میں ملوث متنازعہ کیوبائی کردار فیلکس رودریگوز کو امریکہ کا تمغہ آزادی کا انعامیورپ کے لیے یہ جاگنے کا وقت ہے: چین کے خلاف آسٹریلیا کے ساتھ بننے والے نئے امریکی اتحاد پر یورپی قیادت خوف کا شکار، خارجہ پالیسی بدلنے پر زورپاکستان نے افغانستان میں امریکی جنگ کا حصہ بن کر بڑی غلطی کی: وزیراعظم عمران خان کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویویونان: مہاجرین کی خیمہ بستی میں آگ، پناہ گزینوں کی حالت ناگفتہ بہچین کے خلاف آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کی پیشکش: انڈونیشیا کی جانب سے تحفظات کا اظہار، خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ کی دوہائی، جواب میں آسٹریلوی وزیر اعظم نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کر دیاروسی انتخابات میں مداخلت کا معاملہ: وفاقی کونسل برائے قومی خودمختاری کا اجلاس منعقد، ایپل اور گوگل نے فوری متنازعہ ایپلیکیشنیں سٹور سے ہٹا دیںاقوام متحدہ کی مصنوعی ذہانت کو لے کر انسانی حقوق کی پامالی کی دوہائی، ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کی ضرورت پر زورپاکستان، ترکی اور آزربائیجان کی مشترکہ عسکری مشقیں (3 بھائی- 2021) باکو میں جاری – ویڈیوفرانس کا مغربی افریقہ میں داعش کے کمانڈو عدنان الصحراوی کو مارنے کا دعویٰ

جرمنی: پولیس نے بچوں اور جانوروں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو آن لائن پھیلانے والے 1600 افراد کا جال پکڑ لیا، مجرمانہ مواد کی تشہیر کیلئے بچوں کے استعمال کا بھی انکشاف

جرمنی کی پولیس نے 1600 ایسے افراد کے جال کا سراغ لگایا ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جانوروں کے ساتھ جنسی تعلق کی رغبت رکھتے ہیں اور اسکی ویڈیو و تصاویر آن لائن پھیلانے میں مصروف ہے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ افراد میں سے کچھ کم عمر بھی ہیں۔

پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مشتبہ افراد کا تعلق مختلف مغربی اقوام سے ہے جن میں فرانس، امریکہ، آسٹریا اور سویزرلینڈ نمایاں ہیں۔

پولیس کے مطابق افراد پر دو دفعات لگائی گئی ہیں اور انہیں کم از کم ایک سال کی سزا سنائی جا سکے گی۔ پولیس کے مطابق انہوں نے رواں سال مارچ میں آن لائن بچوں سے فحش گفتگو کی ایک شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا، اور بالآخر اس بڑے جال کو پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس کے پاس مشتبہ افراد کے خلاف بطور ثبوت بڑی مقدار میں مواد موجود ہے۔

تحقیقاتی افسر پیٹر کرامر کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اسکی ویڈیو کے پھیلاؤ کی شکایات میں گزشتہ کچھ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اب اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن چیٹ کے ذریعے بچوں کو پھنسایا جاتا ہے اور پھر انہی کو لالچ یا خوف سے آن لائن مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایسے گروہوں میں شمولیت کو ہی جرم قرار دے دیا گیا ہے، اور اب یہی وجہ کسی کو سزا دینے کے لیے کافی ہو گی، جبکہ ایسے مواد کی برآمدگی پر الگ سے سزا کا باعث ہو گی۔

پولیس نے والدین اور اساتذہ سے بچوں کو ایسے معاملات اور انکے نقصانات سے متعلق آگاہی دینے کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ اہلکار نے 14 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل اور دیگر برقی آلات کی بڑوں کی موجودگی کے بغیر استعمال اور غیر ضروری ایپلیکیشنوں خصوصاً سماجی میڈیا کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

واضح رہے کہ جرمنی کی پولیس نے رواں سال کے آغاز میں خفیہ نیٹ پر بھی 4 لاکھ افراد کے ایک گروہ کی نشاندہی کی تھی جو بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیو اور تصاویر کا مواد خریدتے تھے، گروہ کو مواد مختلف مغربی ممالک کے 4 افراد مہیا کرتے تھے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us