Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

انٹرپول کی 47 ممالک میں بڑی کارروائی: انسانی تجارت، منشیات اور جسم فروشی کے لیے لڑکیوں کو بیچنے والے 286 افراد گرفتار، 430 افراد بازیاب

انٹر پول نے ایک بڑی بین الاقوامی کارروائی میں انسانی تجارت کرنے والے گروہ کے 286 افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے قبضے سے 430 افراد کو بازیاب کروایا ہے۔ لبرتیرا نامی کارروائی کا دائرہ 47 ممالک پر محیط تھا جس میں کم از کم 5 لاکھ مقامات پر چوکیاں، چھاپے اور دیگر کارروائیاں کی گئیں۔

انٹر پول کے مطابق ان کے پاس ابھی بھی 60 سے زائد انسانی تجارت کی تحقیقات جاری ہیں جن میں جعلی شناخت کے معاملات زیادہ نمایاں ہیں۔

واضح رہے کہ لبرتیرا نامی کارروائی 5 سے 9 جولائی کے دوران عمل میں لائی گئی، جس میں تنزانیہ سے یوگنڈا داخل ہوئے ایک بس سے 169 افراد کو جعلی پاسپورٹ کے ساتھ پکڑا گیا۔ اس کے علاوہ برازیل، کولمبیا، کوراکاؤ اور پاناما سے بھی درجنوں افراد کو پکڑا کیا گیا ہے، جو منشیات، جنسی زیادتی اور پپیسے کی غیر قانونی منتقلی کے جرائم میں شریک تھے۔ انٹرپول نے برطانیہ سے بھی 6 افراد کو گرفتار کیا ہے جو جسم فروشی کے لیے جوان لڑکیوں کی تجارت کا دھندا کرتے تھے۔

انٹرپول کے سربراہ نے بڑے نیٹ ورک کو پکڑنے میں ممالک کے تعاون اور عملے کو سراہا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1 × three =

Contact Us