ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی میں کمی نہ کی گئی تو اس کا براہ راست اثر لوگوں کی صحت اور عمر پر پڑے گا۔ تحقیق کے مطابق صرف ہندوستان میں کم از کم 40 کروڑ افراد کی عمر میں 9 سال تک کی کمی ہو سکتی ہے۔
تحقیق کی تفصیل کے مطابق ہندوستان کا شمالی علاقہ خصوصاً دریائے گنگا کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی صحت بری طرح سے متاثر ہونے کا امکان ہے، ان علاقوں میں دہلی، ہریانہ، اتر پردیش، بہار اور جھاڑ کھنڈ نمایاں ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان کی کل آبادی کا 40 فیصد ان ہی علاقوں میں آباد ہے اور ان علاقوں کی فضائی آلودگی میں دنیا میں کسی بھی دوسرے خطے سے زیادہ تیزی اور بری طرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی جامعہ شکاگو کے تحقیقی ادارہ برائے توانائی پالیسی نے بھی اپنی رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی کے حوالے سے حساسیت کو اجاگر کیا ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق دہلی سے کلکتہ درمیان علاقہ 2019 سے بدترین فضائی آلودگی کا شکار ہے۔
نئی دہلی مسلسل 3 برسوں سے دنیا کا بدترین آلودہ شہر گردانا جا رہا ہے، یعنی اس کی فضاء میں پھیپھروں کو تباہ کرنے والے آلودہ مرکبات کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے، مقامی اداروں کے مطابق گزشتہ سال کورونا وباء کےدوران آلودگی میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی تاہم یہ اب بھی دنیا کے دیگر شہروں کی نسبت سب سے زیادہ تھی۔
فضائی آلودگی کی بدترین صورتحال صرف ہندوستان میں نہیں ہے بلکہ ہمسایہ ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی اسی سے دوچار ہیں۔ اگرچہ ہندوستان کی نسبت ان ممالک میں صوتحال کم خراب ہے لیکن دنیا کے باقی خطوں کی نسبت یہ بدترین ہیں۔
ماہرین کے مطابق آلودہ فضاء انسانی صحت اور عمر کو نقصان پہنچانے والے دیگر عوامل مثلاً سگریٹ و شراب نوشی، منشیات یا آلودہ پانی سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں فضائی آلودگی کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں لیکن عوامی آگاہی اور حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
رپورٹ میں حکومتوں کو تجویز دی گئی ہے کہ آلودگی کے خلاف جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے اور عوامی سطح پر مہمات شروع کی جائیں۔ ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اگر 2024 تک صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اس کے لیے فوری طور پر فیکٹریوں، گاڑیوں اور دیگر بڑے ذرائع کو منظم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درخت لگانے اور موجودہ جنگلات کو محفوظ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
تحقیق میں ماہرین نے آلودگی کم کرنے کا ہدف حاصل کرنے پر مثبت اشارے بھی دیے ہیں، جن میں خطے کے شہریوں کی عمومی عمر میں ڈیڑھ سال اور متذکرہ شہروں میں ساڈھے 3 سال کا اضافہ متوقع ہے، جبکہ اگر آلودگی کو مکمل ختم کر دیا جائے تو شہریوں کی موجودہ عمر میں کم ازکم 5 سال کا اضافہ متوقع ہے۔