Shadow
سرخیاں
مغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیامغرب روس کو شکست دینے کے خبط میں مبتلا ہے، یہ ان کے خود کے لیے بھی خطرناک ہے: جنرل اسمبلی اجلاس میں سرگئی لاوروو کا خطاباروناچل پردیش: 3 کھلاڑی چین اور ہندوستان کے مابین متنازعہ علاقے کی سیاست کا نشانہ بن گئے، ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں شامل نہ ہو سکےایشیا میں امن و استحکام کے لیے چین کا ایک اور بڑا قدم: شام کے ساتھ تذویراتی تعلقات کا اعلانامریکی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ و حساس دستاویزات کی چوری: انوکھے طریقے پر ادارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے

چین: ہانگ کانگ سے متعلق قومی سلامتی کا بل منظور

چین نے شدید عالمی دباؤ کے باوجود ہانگ کانگ کو لے کر اہم قومی سلامتی کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ قانون بروز جمعرات، 28 مئی، 2020 کو قومی مجلس شوریٰ میں منظور کیا گیا۔ قانونی مسودے کے حق، میں 2878 جبکہ مخالفت میں ایک رکن نے رائے دی، تاہم 6 ارکان کارروائی سے غیر حاضر تھے۔

نئے قانون کے تحت چین کی مرکزی حکومت ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتےہوئے ہانگ کانگ سے متعلق ضروری قانون سازی کی مجاز ہو گی۔ چین کی قومی اسمبلی کی ہانگ کانگ سے متعلق خصوصی کمیٹی کے نائب سربراہ وانگ چن نے قانون کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کی حوالگی کو 20 سال گزر چکے ہیں تاہم مقامی حکومت نے ملکی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی قسم کی قانون سازی نہیں کی ہے۔ یہ تاخیر نہ صرف ہانگ کانگ بلکہ چین کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات ماہ تک جاری رہنے والے ہنگامے اور اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ اس کا واضح ثبوت ہیں۔

ہانگ کانگ مظاہروں کے دوران شہری قومی علامتوں کی توہین کرتے پائے گئے

قومی مجلس سے منظور کردہ قانون کے مسودے میں سات شقیں شامل ہیں۔ جن میں ہانگ کانگ کو پابند کیا گا ہے کہ ضرورت کے تحت مرکزی حکومت ہانگ کانگ میں قانون کے مطابق ضروری ایجنسیوں کا قیام عمل میں لا ئے گی تاکہ قومی سلامتی سے متعلق کاموں کو انجام دیا جا سکے۔ مسودے کی منظوری کے موقع پر مجلس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ نے کہا کہ ’ہم دونوں خصوصی انتظامی خطوں میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مربوط قانونی نظام اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو واضح کریں گے۔‘ جبکہ ہانگ کانگ کے مقامی رہنما کیری لیم نے اظہار میں کہا ہے کہ اس قانون سے شہر میں غیر قانونی سرگرمیوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

قانون پر چند مقامی رہنماؤں اور مغربی رہنماؤں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جن کے مطابق چین ہانگ کانگ کی حوالگی کی ایم شرط، آزادی کا پاس نہیں رکھ رہا۔ جبکہ امریکی صدر نے چین پر پابندیوں اور مختلف انداز میں ردعمل کا عندیا دیا ہے۔ تاہم چینی قیادت نے انسانی حقوق سے متعلق مغربی الزامات کی تردید کی ہے۔

مسودے کی مرکزی مجلس شوریٰ سے منظوری کے بعد اب ہانگ کانگ کی مقامی مجلس اور قومی مجلس کی خصوصی کمیٹی قانون کی تفصیلات پر کام کرے گی، جس میں مختلف اصطلاحات مثلاً غیر ملکی مداخلت، قومی جرم وغیرہ کی وضاحت اور قانون کے نفاذ پر کام ہو گا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق قانون میں چینی قومی ترانے کی توہین پر 3 سال قید اور 50 ہزار ہانگ کانگی ڈالر جرمانے جیسی سزاؤں کی سفارش کی جائے گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

four × 1 =

Contact Us