پیر, دسمبر 6 Live
Shadow
سرخیاں
امریکی سی آئی اے اہلکاروں کے ایک بار پھر کم عمر بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا انکشافامریکہ کا مشرقی افریقہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان: 1 ہزار سے زائد مزید کمانڈو تیارروسی صدر کی ثالثی: آزربائیجان اور آرمینیا کے مابین سرحدی جھڑپیں ختم، سرحدی حدود کے تعین پر اتفاق، جنگ سے متاثر آبادی اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کی بھی یقین دہانینائیجیر: فرانسیسی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 16 زخمیامریکی فوج میں ہر 4 میں سے 1 عورت اور 5 میں سے 1 مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بیشتر خود کشی کر لیتے، کورٹ مارشل کے خوف سے کوئی آواز نہیں اٹھاتا: سابقہ اہلکارروس کا غیر ملکی سماجی میڈیا کمپنیوں پر ملک میں کاروباری اندراج کے لیے دباؤ جاری: رواں سال کے آخر تک عمل نہ ہونے پر پابندی لگانے کا عندیاامریکہ ہائپر سونک ٹیکنالوجی میں چین اور روس سے بہت پیچھے ہے: امریکی جنرل تھامپسنامریکی تفریحی میڈیا صنعت کس عقیدے، نظریے اور مقصد کے تحت کام کرتی ہے؟چوالیس فیصد امریکی اولاد پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتے: پیو سروے رپورٹچینی کمپنی ژپینگ نے جدید ترین برقی کار جی-9 متعارف کر دی: بیٹری کے معیار اور رفتار میں ٹیسلا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

ترکی: فسلطینی طلباء کی جاسوسی کرنے والا 15 رکنی صیہونی جاسوس گروہ گرفتار، تحقیقات جاری

ترک جاسوس ادارے ایم آئی ٹی نے 15 رکنی ایک صیہونی گروہ کو گرفتار کیا ہے جو ملک میں زیر تعلیم فلسطینی طلباء کی جاسوسی کرنے اور دیگر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے 4 مختلف شہروں میں 200 اہلکاروں کی ایک ٹیم نے 7 اکتوبر کو کارروائی کی جس میں 5 مختلف ایسے گروہوں کو گرفتار یا گیا جو فسلطین پر قابض صیہونی انتظامیہ کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق صیہونی جاسوس خصوصی طور پر ان طلباء پر نظر رکھتے تھے جو سماجی اور تحریکی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے، یا جو شعبہ دفاع سے متعلق تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صیہونی جاسوس سیف یو ایم اور پروٹون میل نامی سافٹ ویئر سے معلومات اسرائیل پہنچاتے تھے۔ اسکے علاوہ ملزمان غیر قانونی طریقے سے رقم کی ترسیل کا کام بھی کرتے تھے، جس کے لیے قیمتی زیورات، پتھروں، بٹ کوئن اور دیگر ذرائع کا سہارا لیا جاتا تھا۔

میڈیا کو دی گئی تفصیلات کے مطابق ان افراد کو ہدایات ہمسایہ یا یورپی ممالک مثلاً کروشیا، اور جرمنی میں دی جاتی تھیں، اور پیسوں کی ادائیگی نقد کی جاتی تھی۔

ترکی نے ان افراد کی شہریت یا دیگر شناخت عیاں نہیں کی ہے البتہ اسرائیلی اخبارات کے مطابق یہ عرب النسل افراد ہیں اور ان میں سے کچھ فلسطینی بھی ہیں، جو گزشتہ ماہ سے ترکی میں لاپتہ ہیں، لیکن دراصل ترکی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں۔

زیر حراست ایک طالب علم کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسکا بھائی بے قصور ہے اور آئندہ چند ماہ میں قونیہ کی ایک جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والا ہے۔

ترک حکومت یا اسرائیلی انتظامیہ نے تاحال کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا البتہ ترک اخبار ڈیلی صباح کے مطابق مکمل تحقیقات کے بعد تفصیلات عیاں کی جائیں گی۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

تبصرہ کریں

Contact Us